دینہ

دینہ شہر میں نوسرباز لٹیرے اور جوگیوں کی بھرمار، شہری لٹ گئے

دینہ شہر میں نوسر باز لٹیرے،جوگیوں کی بھرمار،شہری لٹ گئے،بغیر کسی ہتھیار کے یہ ڈکیٹ صفت جو گی شہریوں کو انتہائی مہارت سے اپنے جال میں پھنساتے ہیں، راتو ں رات امیر بننے کے چکروں میں شہری جمع پونجی سے محروم ہو نے لگے،اعلی حکام فی الفور نوٹس لیں۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل دینہ میں نوسرباز لٹیرے جوگیوں کی بھرمار کی وجہ سے شہری لوٹنے لگے، مین بازار ،جی ٹی روڈ ،ریلوے روڈ ،داتا روڈ ،منگلا روڈ ،بس اسٹینڈ کا علاقہ ان کا مسکن ہے،بغیر کسی ہتھیار کے یہ ڈکیٹ صفت جوگی شہریوں کو انتہائی مہارت سے اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔

کسی کو راتوں رات امیر بننے کا خواب دیکھا کر گیڈر سینگھی کی صفات بیان کرتے ہوئے ایسا ماحول بناتے ہیں کہ سامنے بیٹھے ہوئے شہری کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ خود اپنی مرضی سے گیڈ رسینگھی کے بدلے ہزاروں روپے دیکر چلا جاتا ہے،جب ان جوگیوں کا اس پر کیا ہوا سحر ختم ہوتا ہے تو اس وقت تک وہ لٹ چکا ہوتا ہے کچھ سپیرے جوگی کا روپ دھارے پریشان حال شخص کو دیکھ کر اس سے اظہارہمدردی کر تے ہوئے قسمت کا حال بتانے کی بھاری فیس بٹور لیتے ہیں،اس کی قسمت تو نہیں بدلتی مگر لٹیرے جوگی کی جیب ضرور بھر جاتی ہے۔

ایک سروے کے مطابق ناکام عاشق محبوبہ کو حاصل کر نے کی خاطران جاہل جوگیوں سے مشاورت کر رہے ہوتے ہیں اور یہ دو نمبر جوگی انہیں پلاسٹک کا نگینہ لگی ہوئی آہنی انگوٹھی تھما کر سینکڑوں اور ہزاروں روپے وصول کرلیتا ہے،اوپرسے اتنی باریکی سے اس انگوٹھی کو انتہائی قیمتی نگینہ جڑا ہو ا ظاہر کر تا ہے جو کہ آپ کے عین ستارے کے مطابق ہے،جب آپ یہ پہنوگے تو آپ کی محبوبہ کا دل نر م ہو جائے گا۔

ان کا ایک حربہ یہ بھی ہے کہ کسی کمزور نوجوان یا بیمار شخص کو اس طرح پھنساتے ہیں کہ ہم جدی سنیاسی ہیں چونکہ ٹلہ جوگیاں دینہ شہر کے قریب ہی واقع ہے اس کی آڑ میں یہ ڈھونگی سنیاسی یہ کہہ کر شہریوں کو لوٹتے نظر آتے ہیں کہ ٹلہ جوگیاں سے جڑی بوٹیاں لاتے ہیں اور ہمارے پاس اپنے بزرگوں کے بتائے ہوئے انتہائی مفید نسخے ہیں۔

دینہ کے عوامی و سماجی حلقوں نے ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ ان نوسر بازوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں تا کہ ان کی حوصلہ شکنی ہو اور سادہ لوح عوام ان لٹیروں سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button