اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر جہلم کے شہریوں کی تنقید

0

جہلم: اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہ میں غیر معمولی اضافہ کے اقدام کو شہریوں نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی فوری منسوخی کامطالبہ کر دیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی اپنے ساتھ غریب عوام کی داد رسی کے لئے بھی کوئی ایسی ہی قرارداد مل کر منظور کریں اسوقت تک یہ اضافہ بھی واپس ہونا چاہیے، چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان اس معاملے کا نوٹس لیں۔

جہلم پریس کلب کے سروے کے دوران شہریوں کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کو سوچنا چاہیے ممبران اسمبلی کو عوامی مسائل حل کرنے کے لئے منتخب کرتے ہیں اور وہ صرف اپنے مسائل کو حل کرنا فرض سمجھتے ہیں ،منتخب ممبران نے اپنی تنخواہیں دگنی سے بھی زیادہ کر لی ہیں ، یہی اصول سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

انہوںنے کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان ویسے تو ہر معاملے میں ایک دوسرے کے سخت خلاف ہوتے ہیں لیکن جہاں مفادات کی بات آئے وہاں سب اکٹھے ہو جاتے ہیں ، ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے سے ثابت ہوگیا ہے تبدیلی کا نعرہ محض واویلا ہی تھا ملک کے اندر لوٹ مار کا کلچر تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔ غریب کو مزید بھکاری بنایا جا رہاہے ، جبکہ مالدار افراد کے لئے سہولتیں اور آسائشیں دی جارہی ہیں ۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے ہر سال سالانہ بجٹ کے ساتھ ہر ماہ منی بجٹ حکمرانوں کا وطیرہ بن چکا ہے جبکہ ملازمین کی تنخواہیں سال میں صرف ایک بار بڑھائی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین سمیت عام محنت کش معاشی بدحالی کا شکار ہیں، حکمرانوں کو اپنی مراعات لینے کی بجائے غریب اور سفید پوش طبقے کی طرف توجہ دینا چاہیے تاکہ غریب افراد اپنے بیوی بچوں کو رزق حلال مہیا کر سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.