سرکاری عہدے اور اختیارات کا ناجائز استعمال قانون کے محافظ ہی قانون شکن بن گئے

0

جہلم: حکومت پنجاب اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے ہر قسم کے جنگلی اور آبی پرندوں کے شکار پر پابندی عائد کر رکھی ہے ، جس کا اطلاق ہر قسم کے لائسنس رکھنے والے شکاریوں و شہریوں پر بھی لاگو ہے مگر شہریوں کو قانون پر عمل درآمدکروانے والے قانون شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

محکمہ فشریز اور محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاراپنے افسران کی آشیر باد سے حکومتی پابندیوں کے قانونی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے دیدہ دلیری کے ساتھ شکار یوں کی معاونت کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ دریائے جہلم کے کنارے آنے والے مہمان نایاب آبی پرندوں کا شکار بھی کروا رہے ہیں۔

دریائے جہلم کے وسیع عریض رقبے پر مہاجر نایاب پرندے جن میں مگ، مرغابی ا ور جل مرغی شامل ہیں کا ممنوعہ شکار اپنی سرپرستی میں کروارہے ہیں ، نایاب نسل کے پرندوں کا شکار کرنے والے درجنوں شکاریوں نے رسول بیراج، کوٹیڑہ، چوٹالہ، ملک پور، جلالپور شریف، پنن وال سمیت درجنوں مقامات پر پرندوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے جبکہ محکمہ فشریز اور محکمہ وائلڈ لائف کے افسران نے اس حوالے سے شکاریوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کرنے سے گریزاں ہیں ۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ محکموں کے افسران و اہلکار اپنے عزیز دوستوں سمیت شکاریوں کو دعوت دیکر پرندوں کی نسلیں ختم کروا رہے ہیں ، اگر یہ عمل جاری رہا تو تیزی کے ساتھ ان نایاب اور ماحول دوست پرندوں کا خاتمہ ہو جائیگا۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون شکنی کرنے والے افسران و اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ پرندوں کی نسل کو بچایا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.