دینہ

اسلامی نظامِ معیشت ہمیں کمانے ، جمع کرنے اور خرچ کرنے تک رہنمائی فرماتا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: اسلامی نظامِ معیشت ہمیں کمانے ، جمع کرنے اور خرچ کرنے تک رہنمائی فرماتا ہے اور ہمارا مال ہی ہمارے پاس امانت ہے جسے ہم نے شرعی حدود میں خرچ کرنا ہے،جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کا نظامِ معیشت کمانے اور جمع کرنے تک محدود ہے۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ، سربراہ تنظیم الاخوان نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام اور کافر و مشرک کے قانون میں اخلاقی حدود ایک جیسی ہیں ، چوری چکاری ، کسی کا مالِ ناحق لے لینا غلط سمجھا جاتا ہے لیکن اسلامی اور غیر اسلامی معاشرے کے نظامِ معیشت میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے میں آپ گورنمنٹ ٹیکسز ادا کرنے کے بعد جو مال بچ جائے اسے چاہے جوئے میں اڑا دیں، آگ لگا دیں ، کوئی نہیں پوچھے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام ہمارے مال جو کہ ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی امانت ہے خرچ کے اصول بھی بتاتا ہے اور اسی طرح جو مال واراثت میں ملے اسے بھی آگے اپنے وارثین تک پہنچانے کا حکم فرماتا ہے، اگر آج ہم ملک میں نظامِ زکوٰۃ کو ہی درست کر لیں تو ملک میں غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور غریب کو نوالہ مل سکتا ہے، ہم نے اپنے بنیادی اصولوں کو چھوڑ دیا جس سے ہم ہر شعبے میں تنزلی کا شکار ہیں۔

آخر میں انہوں نے ملک کی سلامتی اور امن کے لیے دعا فرمائی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button