دینہاہم خبریں

حلقہ این اے 66 میں ن لیگ تین دھڑوں میں تقسیم، برادری ازم اور گروہی سیاست کا فروغ عروج پر

حلقہ این اے66 ن لیگ بمقابلہ ن لیگ، آئندہ انتخابات میں ٹکٹ کے حصول اورانتخابی حلقہ کو اپنی دسترس میں رکھنے کے لیے جماعتی نعرے کے ساتھ ساتھ برادری ازم اور گروہی سیاست کا فروغ عروج پر پہنچ گیا، گزشتہ انتخابات میں ن لیگ کی ناکامی کی بڑی وجہ ن لیگیوں کی بغاوت بنی، حلقہ این اے 66 میں ن لیگ تین دھڑوں میں تقسیم، ہر دھڑا اپنا اپنا چورن بیچنے میں مصروف، سابقہ روش برقرار رہی تو آئندہ بھی اس حلقہ میں ن لیگ کی کامیابی ناممکن ہو گی۔

تفصیلات و سروے کے مطابق آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں اپنی کامیابی کویقینی بنانے کے لیے امیدواروں کے چناؤ اور بہتر حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہیں حلقہ این اے 66 جہلم میں بھی سیاسی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک شروع ہو چکی ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں اس حلقہ میں پی ٹی آئی کے چوہدری فرخ الطاف نے مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری ندیم خادم کو شکست دے کر کامیابی اپنے نام کی تھی، آئندہ انتخابات میں بھی اس حلقہ میں کسی بھی مخالف سیاسی جماعت کا مقابلہ لدھڑ خاندان کے ہی امیدوار سے ہو گا، اس حلقہ کی موجودہ سیاسی صورتحال پر اگر نظر دوڑائی جائے تو گزشتہ انتخابات کی طرح آئندہ کے لیے بھی یہ حلقہ مسلم لیگ ن کے مختلف دھڑوں کی آپسی جنگ کی بھینٹ چڑھتا نظر آتا ہے ۔

گزشتہ انتخابات میں بھی اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کی ناکامی کا اصل سبب ن لیگی دھڑوں کی مخالفت اور بغاوت تھی ۔فی الوقت اس حلقہ میں پی ٹی آئی کے مقابلہ میں ن لیگ کا ہی شیرازہ بکھرا نظر آ رہا ہے اور ن لیگی دھڑے اپنے تائیں اس حلقہ کو اپنی دسترس میں کرنے کے لیے اپنا اپنا چورن بیچ رہے ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں بھی ن لیگ اس انتخابی حلقہ میں امیدوار کے چناؤ کے وقت اضطرابی کیفیت کا شکار رہی۔ ن لیگ نے پہلے چوہدری ندیم خادم بعد ازاں سابق ایم پی اے مہر محمد فیاض اور عین وقت پر دوبارہ ٹکٹ چوہدری ندیم خادم کو دے کر مہر محمد فیاض کو صوبائی امیدوار بنانے پر اکتفا کیا، جماعتی فیصلے پر مہر محمد فیاض نے رسمی طور پر ’’ قبول قبول ‘‘ کر لیا مگر اس قبولیت کے باوجود ’’ دلِ ناداں‘‘نے دل کی بھڑاس خاموش رہ کر اندرونی مخالفت کی صورت میں دکھا دی ۔

گزشتہ انتخابات میں ن لیگی امیدواروں کی باہمی منافقت کی وجہ سے یہ حلقہ جو ن لیگ کا قلعہ تھا کو مخالف جماعت کے امیدوار نے باآسانی فتح کر لیا۔ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے یہ سیاسی انا کی جنگ مزید بھڑکتی رہی اور اب اس حلقہ میں چوہدری ندیم خادم، مہر محمد فیاض کے ساتھ ساتھ ایک تیسرا دھڑا بلال اظہر کیانی کی صورت میں ابھر کر سامنے آ گیا ہے ۔

ان تینوں دھڑوں میں جو بات مشترک ہے وہ یہ کہ مذکورہ تینوں دھڑے اپنے تائیں دھڑلے سے اپنی برادری ،احبابی اور گروہی سیاست کو فروغ دیکر ن لیگ کے نظریاتی کارکنوں کو جماعت سے متنفرکرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے ۔جماعت کس کو اپنا امیدوار نامزد کرے گی اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا مگر ایک بات اظہر المن شمس ہے کہ جماعت کوامیدوار تو مل جائیں گے مگر کارکن اس وقت تک جماعت سے کوسوں دور ہوں گے۔

تینوں دھڑوں نے جس منافرانہ سیاست کی داغ بیل ڈال دی ہے اس کا خاتمہ ناممکن نظر آ رہا ہے اور آنے والے وقت میں بھی تین ہی دھڑے برقرار رہنے کی توقع ہے جب تک مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت اس امر کی طرف توجہ نہیں دیتی تب تک نفرت کا یہ سیلاب پھیلتا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button