ہمیں اپنی انا کو ختم کرنا ہو گا اور عاجزی اختیار کرنا ہوگی، عبدالقدیر اعوان

0

سوہاوہ: خالص اللہ کا اختیار کرنا اس قابل کردیتا ہے کہ بندہ کو یہ ادراک نصیب ہو جاتا ہے کہ روز محشر اللہ کے روبرو پیش ہونا ہے اور اس کے لیے اللہ اور رسول اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے ۔اللہ کے حضور پیش ہونے سے پہلے پیشی کی حقیقت سے آگاہی سے آگاہ ہوجائے گا۔جس بندے کو تعلق مع اللہ حاصل ہوجائے اللہ اسے دنیاسے بے نیاز کردیتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوا ن پاکستان نے دارالعرفان منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تسبیحات ،نمازاور عبادات دنیاوی مصائب سے چھٹکارے کے لیے نہ پڑھی جائیں بلکہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اختیار کی جائیں ۔اس سے قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔انسان کا جو وقت اللہ کی یاد کے بغیر گزرا ہوگا برزخ ، قیامت اور جنت میں بھی اس بات کا افسوس رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بندے کا رجوع الی اللہ اور پھر بندگی میں دین اسلام پر عمل پیرا ہونا ہے بہت بڑی بات ہے کہ اس کا سفر بہتری کی طرف ہے لیکن یاد رہے کہ بندے کی انا اس کے آڑے آتی ہے پھر انسان کو اپنی بڑائی میں مبتلا کر دیتی ہے ہمیں اپنی اس انا کو ختم کرنا ہو گا اور عاجزی اختیار کرنا ہوگی یہ میدان عمل میں لڑنے سے بڑا جہاد ہے ۔مطلق انسان کے اندر قرب کی کیفیت رکھی گئی ہے۔جب انسان کے اندرقرب الٰہی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے اللہ کا دیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معرفت الٰہی تک پہنچنے کے لیے حضور اکرم ﷺ کی ذات اطہر کو پہچاننااور من و عن آپ ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ایمان کا حصہ ہے۔صرف دعووں سے کام نہیں چلے گا اورنہ زبانی کہنا کام آئے گا۔ بے شک بہترین نمونہ حیات آپ ﷺ کی ذات مطہرہ ہے۔اللہ کریم ہماری کمی بیشی معاف فرمائیں۔آخر میں انھوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے دعا کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.