دینہ

فیسیں آسمان کو چھونے لگیں مگر تحصیل دینہ میں کئی پرائیویٹ سکولوں میں سہولیات نہ ہونے کے برابر

دینہ: فیسیں آسمان کو چھونے لگیں مگر سہولیات نہ ہونے کے برابر، تحصیل دینہ میں واقع کئی پرائیویٹ سکولوں میں چڑیا گھر اور مرغی خانوں جیسا ماحول،گرمی اور لوڈ شیڈنگ میں طلباء کا برا حال۔ محکمہ تعلیم کے افسران نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل دینہ میں کئی پرائیویٹ سکولوں کی عمارتیں بغیر میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ محکمہ ہیلتھ چل رہی ہیں ہوا کی آمد ورفت کا کوئی خیال نہ رکھا گیا ہے ۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جو لگاتار گھنٹوں پر محیط ہوتی ہے میں بچوں کا سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اکثریت پرائیویٹ سکولوں کی عمارتیں بلدیہ دینہ سے منظور شدہ نقشہ کے مطابق نہیں کیونکہ یہ عمارتیں کسی اور مقصد کے لیے بنائی گئیں اور سکول شروع کر لیے گئے بہت کم تعداد میں جو نہ ہونے کے برابر ہے۔

پرائیویٹ سکول کی عمارتیں وہ تمام لوازمات پوری کرتی ہیں جو ایک سکول کی بلڈنگ میں ہو نے چائیں تمام کلاسس کا اپنا اپنا کمرہ ہونا چائیے ٹیچر کے لیے سٹاف روم اور بچوں کے لیے پلے گراؤنڈ پینے کا صاف پانی واش روم صاف ستھرے اور ما حول خوشگوار ہو جہاں بچے سکول کے مین گیٹ سے داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو آرام دہ محسوس کریں نہ کہ سکول کا ماحول ایسا ہونا چائیے کہ وہ کسی مرغیوں کے ڈربے یاکسی وڈیرے کی نجی جیل یا جہنم کا نقشہ پیش کر رہا ہو ۔

اس تمام صورت حال سے محکمہ تعلیم جہلم کے افسران مکمل طور پر بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ان کا سارا زور صرف سرکاری تعلیمی اداروں تک محدود ہے جبکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے قوم کے نونہالوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ مطلوبہ معیار پر نہ اترنے والے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے خلاف فوری ایکشن لیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button