جہلم

جہلم شہر سمیت گردونواح کے علاقوں میں گیس ریفیلنگ کا دھندہ کھلے عام جاری

جہلم: شہر سمیت گردونواح کے علاقوں میں گیس ریفیلنگ کا دھندہ کھلے عام جاری۔سول ڈیفنس کے ذمہ داران کی پراسرار خاموشی کے باعث درجنوں گیس ری فیلینگ کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ شہریوں کے سروں پر خوف کے سائے منڈلانے لگے۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے اصلاح احوال کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر و گردونواح میں بااثر گیس ریفیلنگ کرنے والے مافیا نے محکمہ سول ڈیفنس کے افسران و ملازمین سے ملی بھگت کر کے سر عام سٹرکوں پراور شہر کے گنجان آباد علاقوں کے گلی محلوں میں چند ہزار روپے کرایہ کے عوض بڑے بڑے گودام اور حویلیاں کرائے پر لے رکھی ہیں جہاں بڑے سلنڈروں سے چھوٹے سلنڈروں میں کم وزن گیس بھر کے سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے ۔

محکمہ سول ڈیفنس کے افسران و اہلکاروںنے غیر قانونی دھندہ کرنے والوں سے ماہانہ طے کر رکھا ہے ، شہریوں کی طرف سے مسائل اجاگر کرنے پر سول ڈیفنس کے افسران و اہلکار پہلے ہی مذکورہ دکاندار وں کو خبر دار کر کے دفتروں سے چیکنگ کے حصول کے لئے نکلتے ہیں۔

طے شدہ معاہدے کے مطابق سول ڈیفنس کے افسران و ملازمین کے پہنچنے سے قبل ہی غیر قانونی طور پر بڑے سلنڈروں سے چھوٹے سلنڈروں میں گیس منتقل کرنے والے دکاندار چند لمحوں کیلئے آگے پیچھے تالے لگا کر غائب ہو جاتے ہیں۔

چندماہ قبل غیر قانونی طور پر گیس کی ریفیلنگ کے دوران جہلم کے علاقہ جادہ، میں زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں مارکیٹ کو آگ لگنے سے دکانوں میں موجود لاکھوں روپے مالیت کی اشیاہ جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی۔

دوسرا واقعہ جو جہلم کے نواحی علاقہ ڈالمیا ڈنڈوت میں پیش آیا جس کے نتیجہ میں کروڑوں روپے کے نقصان سمیت دھماکوں کے خوف کے باعث کئی گھنٹے تک خواتین اور بچے ہوش و حواس کھو بیٹھے ۔جبکہ گیس ایجنسی کامالک موقع سے فرار ہو نے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

شہریوںنے کمشنر راولپنڈی ، ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں موجود غیر قانونی پٹرول ایجنسیاں اور گیس ری فلنگ کا دھندہ کرنے والے بااثر مافیا کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں تا کہ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں قائم کی گئیں غیرقانونی ایجنسیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور اس مافیا کی پشت پناہی کرنے والے سیاستدانوں سمیت ،سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف بھی مقدمات درج کئے جائیں تاکہ شہری بلا خوف وخطر اپنی نجی مصروفیات جاری رکھ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button