امدادی ادارہ ’’اخوت‘‘ کے تجارتی قرضہ پروگرام سے بہت سی آبادیوں کے مستحقین محروم

0

پڑی درویزہ: امداد ی ادارہ ’’اخوت ‘‘کے تجارتی قرضہ پروگرام سے بہت سی آبادیوں کے مستحقین محروم۔ سائلین، وجہ معلوم نہیں۔ چھ کلو میٹر کے علاقہ کے بعد دوسری ٹیم کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔جائزہ رپورٹ آنے پر امداد سے محروم آبادیوں کو شامل کر لیا جائے گا ۔ محمد وقاص ۔ امدادی ادارہ’’ اخوت‘‘ ملہال مغلاں کے عہدیدار کی میڈیا سے وضاحتی گفتگو ۔

تفصیلات کے مطابق امدادی ادارہ ’’اخوت ‘‘ ملہال مغلاں چکوال کی طرف سے علاقہ کے بہت سے ضرورت مندوں کو بلا سود قرضہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے لیکن گرد و نواح کی چند آبادیوں سے اطلاع ملی ہے کہ ان کے رہائشی تا حال بلا سود مالی امدادسے محروم ہیں جن سے مختلف سائلین نے میڈیا کو بتا یا کہ ان ٹیموں کی طرف سے ان آبادیوں کے مستحقین سے رابطہ نہ کر نا سمجھ سے بالا تر ہے اس سلسلے میں جب ادارہ’’ اخوت ‘‘ ملہال مغلاںسے رابطہ کیا گیا تو ادارہ کے عہدیداران ریجنل مینجر سعید احمد اورسینئر عہدیدار محمد وقاص نے میڈیا کو بتایا ہے ہر امدادی ٹیم کا دائرہ اختیار چھ مربع کلو میٹر تک کے علاقہ کے اندر آبادیوں تک محدودہو تا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت چکوال کے علاقوں ملہال مغلاں، پیر پھلاہی اورتحصیل سوہاوہ میں ڈھوک امب کے مقام پر دفاتر خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔سائلین کے مطابق مذکورہ وضاحت حقائق پر مبنی نہیں ہے کیونکہ ڈھوک فتح محمد ، موہڑہ جٹاں تحصیل سوہاوہ کی آبادیاں ملہال مغلاں سے چھ کلو میٹر سے کہیں زائد فاصلے پر واقع ہیں اور اسی طرح چھبر سیداں کی آبادی بھی ان کے قریب ہے لیکن موہڑہ جٹاںتحصیل سوہاوہ تک اخوت کے نمائندگان سر گرم ہیں لیکن قریبی آبادی چھبر سیداں تا حال اس سہولت سے محروم چلی آرہی ہے ۔

سائلین کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے ادارہ کے اعلیٰ حکام کو نوٹس لینا چاہیے تا کہ چھبر سیداں کی طرح دیگر محروم آبادیوں کے مکین بھی امدادی قرضہ کی سہولت سے برابر استفادہ کر سکیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.