جہلم

جی ٹی روڈ کے اطراف نالوں پر ٹھیکیدار نے ریت اور بجری کی پڑیاں ڈال کر لاکھوں کروڑوں ہضم کر لئے

جہلم: جی ٹی روڈ کے اطراف قائم ہونے والے نالوں پر ٹھیکیدار نے ریت اور بجری کی پڑیاں ڈال کر لاکھوں کروڑوں ہضم کر لئے ، این ایچ اے کی انتظامیہ حصہ بقدر جثہ وصول کرکے خاموش ، نشئیوں نے ریت بجری سے تیار ہونے والی پڑیوں سے سریے نکال لئے ، شہری نالوں میں گرنے سے زخمی ہونے لگے ، شہریوں کا این ایچ اے کے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق جادہ جہلم کے مقام پر اور دینہ جی ٹی روڈ کے مقام پر این ایچ اے کے ٹھیکیدار نے لاکھوں کروڑوں روپے ہضم کرنے کے لئے این ایچ اے کے ذمہ داران کے ساتھ معاملات طے ہونے کیوجہ سے نالوں پر ڈالی گئی پڑیوں میں انتہائی ناقص و غیر معیاری میٹریل کااستعمال کیا ہے۔
شاطر ٹھیکیدار نے پڑیوں کا سائز بڑا رکھنے اور معیاری پڑیاں تیار کرنے کی بجائے ریڈی میڈ پڑیا ں جن میں ریت بجری کا غیر معمولی استعما ل کیا گیا ہے اور 2 سرئیے کراس میں رکھ کر پڑیاں تیار کروائی ہیں جن کے اوپر سے شہریوں کے گزرنے کے باعث پڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور نشئی سریئے اٹھا کر کباڑیوں کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں۔
چند روز قبل نالوں پر ڈالی جانے والی پڑیاں ناقص و غیر معیاری میٹریل کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں ، اور بیشتر مقامات نالے بغیر پڑیوں کے ہونے کیوجہ سے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور بزرگ شہری نالوں میں گر کر زخمی ہو رہے ہیں۔
جہلم کے شہریوں نے این ایچ اے کے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے والے ٹھیکیدار اور این ایچ اے کے ذمہ داران کی انکوائری کروا کر مالی بد عنوانی میں ملوث ٹھیکیدار اور ذمہ داران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس حاصل کرکے معیاری پڑیاں نالوں پر ڈالی جائیں تاکہ شہری حادثات سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button