دینہ

دینہ سے سوہاوہ اور گوجر خان چلنے والی ویگنوں میں مسافروں کے ساتھ بدتمیزی کرنا معمول بنا لیا گیا

دینہ سے سوہاوہ اور گوجر خان چلنے والی ویگنوں کے ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز نے مسافروں کے ساتھ بدتمیزی کرنی ، اوور لوڈنگ کرنا، فرنٹ سیٹ پر تین سواریاں بٹھانا۔ کرایہ زائد وصول کرنا معمول بنالیا ہے۔ احتجاج کرنے پر مسافروں کو ویران جگہ پر اُتار دیا جاتا ہے۔

کئی ڈرائیورں کے پاس لائسنس ہی نہیں ہوتے اور کئی ڈرائیوروں کے لائسنس جعلی ہیں، موٹروے پولیس پنجاب پولیس اور ٹریفک پولیس نہ تو ان کے خلاف کارروائی کرتی ہیں اور نہ ہی ان کو چیک کیا جاتا ہے جبکہ سرکاری اتھارٹی کی اشیر باد سے ویگن ڈرئیورز کنڈیکٹرز آئے روز مسافروں کو تنگ کرتے ہیں اور لڑائی جھگڑے کرتے ہیں۔

دینہ سے گوجر خان اور سوہاوہ جانے والی ویگنوں کے کنڈیکٹر اور ڈرائیورگاڑیوں میں خواتین اور مردوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بٹھا لیتے ہیں اور بدتمیزی بھی کرتے ہیں ۔ خواتین کے احترام نام کی کوئی چیز نہ ہے۔ کرایہ نامہ اویزاں نہ کیا جاتا ہے۔ کرایہ بھی زائد وصول کیا جاتا ہے۔

اکثر ڈرائیور بغیر لائسنس گاڑیاں چلاتے ہیں جس سے کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔راستے میں کسی بھی جگہ موٹروے پولیس نہ تو درائیونگ لائسنس چیک کرتی ہے۔ اور نہ ہی اوور لوڈنگ کو چیک کیا جاتا ہے۔ گاڑیوں میں نصب ریکارڈنگ بھی چیک نہیں کی جاتی ہے۔ فحش قسم کے گانے لگائے جاتے ہیں۔

ویگن ڈرائیور نمبر 102 JMIکے خلاف اس بارے محمد محسن افتخار سکنہ ریلوے روڈ دینہ نے تحریری درخواست DSP موٹر وے پولیس سوہاوہ اور اعلیٰ حکام کو دے دی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button