جہلماہم خبریں

جہلم میں سادہ لوح شہریوں کو جال میں پھنسا کر شادیاں رچانے والے گروہ کا انکشاف

جہلم: تھانہ صدر کے علاقہ ڈھوک مہر عدالت میں سادہ لوح شہریوں کو جال میں پھنسا کر شادیاں رچانے والے گروہ کا انکشاف ، گروہ کے کارندوںنے نصف درجن سے زائد شہریوں کو جمع پونجی سے محروم کر دیا، متاثرہ افراد دربدر ، ڈی پی او جہلم سے نوسر باز گروہ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم تھانہ صدر کے علاقہ ڈھوک مہر عدالت میں مقیم گروہ جس کا سرغنہ محمد اکرم جس نے کنول بی بی کے زریعے نصف درجن سے زائد شہریوں کو شادیاں کا جھانسہ دیکر مال و زر سے محروم کر دیاہے۔

اس حوالے سے متاثرہ شہری محمد بوٹا (عرف یاسر) نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ محمداکرم نے میرے ساتھ رابطہ کیا اور اپنے سوتیلی بیٹی کنول بی بی کے ساتھ شادی کرنے کا کہا اس دوران محمد اکرم اور کنول بی بی نے پہلے سے شادی بارے کوئی زکر نہ کیا جس دن میرا نکاح ہونا تھا تو اس وقت مجھے بتایا گیا کہ کنول بی بی پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کی پہلے خاوند سے 2 بچیاں بھی ہیں جن کی کفالت بھی میرے ذمے عائد کی گئی اس طرح چند سال کنول بی بی نے میرے ساتھ گزارے اور ہنسی خوشی سے ہمارا وقت گزر رہا تھا کہ اس نے بیرون ملک میں مقیم شاہد محمود نامی نوجوان کو اپنی ذلفوں کااسیر بنا لیا اس طرح کنول بی بی کے سوتیلے والد نے 5 لاکھ روپے وصول کرنے کے بعد اپنی سوتیلی بیٹی کی شادی شاہد محمود کے ساتھ بذریعہ ٹیلیفون کروادی جس کا علم کافی عرصہ بعد ہوا۔

متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ محمد اکرم اس کی سوتیلی بیٹی نے پچھلے چند سالوں میں نصف درجن سے زائد نکاح کروائے ہیں اور سادہ لوح شہریوں سے مال و زر لوٹ کر رفو چکر ہو جاتے ہیں۔

متاثرہ شہری نے بتایا کہ داد رسی کے لئے ڈی پی او جہلم سید مصطفی تنویر کودرخواست دے رکھی ہے جعلی شادیوں کا دھندہ کرنے والا گروہ بااثر ہونے کے ساتھ ساتھ شاطر و چالاک ہے جس کی وجہ سے سادہ لوح شہری دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر چپ سادھ لیتے ہیں۔

متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ میرے چھوٹے چھوٹے 2 معصوم بچے کنول بی بی کے پاس موجود ہیں ، جن پر آئے روز وحشیانہ تشدد کیاجاتاہے ، اگر میرے بیٹے میرے حوالے کئے جائیں تو میں انکی بہتر طریقے سے تعلیم و تربیت کے فرائض سر انجام دے سکتا ہوں ، شادیاں رچانے والے گروہ کے کارندوں کے بارے کل کے اخبارات میں مزید انکشافات شائع کئے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button