نوازشریف کی زندگی کو جیل سے زیادہ گھر سے خطرہ ہے۔ فواد چوہدری

0

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم ٹاسک فورس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے 25 ارب روپے سے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خواجہ آصف نے ایوان میں لاء آفیسر سے متعلق غلط بیانی کی، نواز شریف کی جان کو مسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ اور شریف فیملی سے خطرہ ہے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم ٹاسک فورس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے 25 ارب روپے سے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے پرائیویٹ سیکٹر لیڈ کرے گا اور حکومت ہر قسم کا تعاون کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں سپارکو کو خط لکھا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو انٹرنیٹ رسائی دی جا سکتی ہے، انٹرنیٹ رسائی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، ہم کوشش کریں گے کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس فراہم کر سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خواجہ آصف نے لاء آفیسر سے متعلق غلط بیانی کی حکومتی لاء آفیسرز نے مانا کہ نواز شریف کو علاج کی سہولت ملنی چاہئے۔ خواجہ آصف نے جھوٹ بولا ان کے خلاف تحریک استحقاق لا رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے، نواز شریف کو فکر لاحق ہے کہ ان کو ہسپتال سے گھر کیوں منتقل کیا گیا۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، مسلم لیگ (ن) اس کی واضح مثال ہے، ان کو اگر حکومت کی شورٹی بانڈز کی شرط غیر آئینی لگتی ہے تو ان کو ساری رات مشاورت کرکے آج عدالت میں پٹیشن دائر کرنا چاہئے تھی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کی جان کو مسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ اور شریف فیملی سے خطرہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نواز شریف کی صحت کا خیال رکھنے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بننی چاہئے جو تمام جماعتوں پر مشتمل ہو اور نواز شریف کی صحت کا خیال رکھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف سے متعلق کابینہ نے متوازن فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کے بھائی شہباز شریف، بیٹے اور بیٹی گارنٹی دینے کو تیار نہیں، مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کہہ رہے ہیں کہ ہماری جائیداد بطور ضمانت رکھ لیں، میاں صاحب کو جانے دیں۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا سیاسی کردار ختم ہو چکا ہے، اس حوالہ سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں دونوں پارٹیوں کے لوگ اپنی مستقبل کی سیاست کے لئے ان لوگوں کی صحت کو داؤپر لگا رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف نواز شریف کی صحت کے لئے دعا گو ہے، ہم نواز شریف کی بیماری پر (ن) لیگ کی سیاست کی مذمت کرتے ہیں اور نواز شریف کے علاج میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی مذمت کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سی ڈی اے کے لئے کافی کام چھوڑ گئے ہیں، مولانا فضل الرحمان صاحب نے شدت پسندی کا بیانیہ دیا ہے ان کا بیانیہ معاشرے کو تقسیم کرنے کا بیانیہ ہے، امید ہے فضل الرحمان اس سے سبق سیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پلان بی کو بھی اسی طرح ہینڈل کریں گے جیسے پلان اے کو کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن پہلے اسلام آباد پھر قومی شاہراہیں بند کرنا چاہ رہے تھے اب وہ بیڈ روم لاک کریں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.