موسم کی تبدیلی انسانوں کے مزاج سمیت ان کی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن

0

جہلم: موسم کی تبدیلی انسانوں کے مزاج سمیت ان کی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے اور وہی انسان موسم کی تبدیلی کی شدت کی لپیٹ میں آتے ہیں جن میں موسمی وائرس اور بیکٹیریا کے خلاف مزاحمت کرنے کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے شعبہ تپ دق و سینہ کے ماہر فزیشن ڈاکٹر ملک حفیظ الرحمن نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سردی کی شدت بڑھتے ہی سانس، سینے اور جلد کے امراض میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سردیوں میں بچوں سمیت معمر بزرگوں کی قوت مدافعت بہت کم ہو جاتی ہے اور وہ بہت جلد اس موسم کی شدت کی وجہ سے کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ بڑی عمر کے لوگ عموماً جوڑوں اور ہڈیوں کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے مطابق اگر سردیوں میں احتیاط نہ کی جائے تو صحت بْری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی، بخار، گلے کی خراش اور سینے میں انفیکشن سرد موسم کی شدت کی بیماریاں کہلاتی ہیں۔ پھر نمونیہ اور دمہ جیسی بیماریاں بھی ان لوگوں کے لئے سردیوں کے موسم میں وبال جان بن جاتی ہیں جو موسم کی شدت میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر پاتے جبکہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے سرد موسم کی موسمی بیماریوں ، وائرس اوربیکٹریا کو شکست دی جا سکتی ہے۔

سرد موسم کی بیماریوں کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے سول ہسپتال کے شعبہ امراض اطفال ڈاکٹر نعیم غفار نے بتایا کہ سرد موسم کی شدت میں تین قسم کے مسائل کا شکار ہونے کی وجہ سے بچے اور بڑے بیمار ہوتے ہیں۔ ایک ہمارا ماحول ہے جس میں ہوا میں آلودگی، سگریٹ کا دھواں، پرفیوم کی خوشبو، پینٹ کی خوشبو، گردوغبار صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ دوسرا موروثی امراض ہوتے ہیں۔ یعنی سرد موسم کی بیماریاں جو مریض میں موروثی پائی جاتی ہیں جیسے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، بے احتیاطی کی وجہ سے وہ بیماریاں ان کو تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیسری وجہ سرد موسم میں جو بیماری کی وجہ بنتی ہے وہ ہماری اپنی پیدا کردہ ہوتی ہے۔ سردی کی شدت سے بچنے کے لیے موسم کے مطابق کپڑے نہ پہنے جائیں۔ کھٹی، تلی ہوئی چیزیں، برف والی چیزیں کھائی جائیں جن سے گلہ خراب ہو تا ہو اور کھانسی آنی شروع ہو جائے یہ وہ علامات ہیں جن کی وجہ ملٹی پل فیکٹر ہوتے ہیں۔ ان اشیاء سے وائرس انفیکشن اور الرجی ٹریگرز ہو جاتی ہیں جو سانس کی نالیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریگرز ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن سے الرجی کے باعث بچوں پر دمے کا حملہ ہوتا ہے۔ جن چیزوں سے انفیکشن ہوتا ہے ان میں سردی لگ جانا یا زکام ہونا، سگریٹ یا تمباکو کا دھواں، لکڑی یا تیل کا دھواں وغیرہ قابل ذکر ہے جبکہ ایسی چیزیں جو الرجی کا باعث بنتی ہیں ان میں ہوا کی آلودگی، نم دار موسم، سرد موسم، پالتو جانور تیز خوشبو یا سپرے وغیرہ شامل ہیں۔ سردی کی وجہ سے شہریوں میں کھانسی،نزلہ ،زکام اور بخار جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔شہریوں کو چاہیے کہ بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیارکریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.