جہلماہم خبریں

کورونا کی تیسری لہر کے دوران رمضان المبارک کا آغاز، جہلم میں سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں

جہلم: کورونا کی تیسری لہر کے پس منظر میں رمضان المبارک کا آغاز بھی ہو چکاہے مگر سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔

ضلع جہلم کی 2قومی اور 3 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر رمضان المبارک سے قبل شادیوں میں حاضری عوام رابطہ مہم تھی رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی شادی بیاہ کی تقریبات بھی ختم ہو گئیں ، اب کورونا کی تیسری لہر نے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے واضع حکم کے باوجود پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال نہیں ہو سکے، بلدیاتی چیئرمینوں اور بلدیاتی کونسلرز میں بے چینی اور تشویش بڑھنا شروع ہوگئی ہے، ضلع جہلم میں 4 تحصیل کونسلیں 1 میونسپل کارپوریشن جبکہ 2 میونسپل کمیٹیاں موجود ہیں جبکہ ماضی کی ضلع کونسل میں بلدیاتی نمائندوں میں90 فیصد سے زائد کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے جبکہ ضلع کونسل جہلم کے ایوان میں پی ٹی آئی کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، مسلم لیگ ق کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ضلع جہلم کی متعدد یونین کونسلوں کے چیئرمینزکا تعلق بھی مسلم لیگ ن سے ہے، پارلیمانی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت 5 پارلیمنٹرینز کا تعلق پی ٹی آئی، 1 کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے، مجموعی طور پر 6 پارلیمنٹرینز اس وقت ضلع جہلم کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ممبر قومی اسمبلی چوہدری فرخ الطاف نے پی ٹی آئی کی بھاگ دوڑ سنبھال رکھی ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری کے بھائیوں چوہدری فیصل فرید اور چوہدری فراز حسین نے حلقہ این اے 67 کی ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن ضلع جہلم کی قیادت میں بھی یکجہتی کا فقدان پایا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button