کالم و مضامین

بات حکمران جماعت کی

تحریر :عمر جٹ اومی

جنرل الیکشن 2018 کے بعد جس طرح جہلم شہر کو لاوارث چھوڑا گیا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی،2018 ء سے 2019ء تک ضلع جہلم کے غیور عوام یہ بھی سمجھ نہ پائے کہ ہمارے منتخب کردہ عوامی نمائندے گئے تو گئے کہاں۔

آہستہ آہستہ عوام کو باور ہونا شروع ہو گیا کہ منتخب نمائندگان اپنے چند عزیزان کے علاقوں اور اْنہی کی ترقی کے لیے فکر مند و مصروف ہیں،یعنی شہر لاوارث ہی رہے گا حالانکہ تحصیل جہلم نے جس طرح ضلع جہلم کے حلقہ این اے 66 اورصوبائی حلقہ پی پی 26 سے عوامی نمائندگان کا انتخاب کیا اس تحصیل کے لیے الگ سے فنڈز ہونے چاہیے تھے تا کہ عوام کا عوامی نمائندگان پر اعتماد بحال رہتا۔

حلقہ این اے67 سے منتخب ایم این اے نے جس انداز میں اپنی عوام کا شکریہ ادا کیا جس طرح 67 کی ترقی کے لیے کوششیں کی، جتنی بڑی تعداد میں ترقیاتی، تعمیراتی پیکجز دئیے اسکے برعکس حلقہ این اے 66 اورپی پی 26 کے عوامی نمائندگان نے شہر کو بلکل بْھلا دیا،ڈیرے کی سیاست ڈیرے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔

اندرون شہر میں نہ کہیں کوئی رابطہ دفتر قائم کیا گیا اور نہ کہیں منتخب عوامی نمائندے نظر آئے،پی ٹی آئی مرکزی آفس کچہری چوک موجود ہونے کے باوجود بھی حلقہ این اے 66،پی پی 26 میں عوامی مسائل سننے یا ان کے حل کے لئے دفتر آنے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی۔

این اے 67 سے منتخب ایم این اے فواد حسین چوہدری کیونکہ ڈومیسٹک لیول سے آگے بڑھتے ہوئے انٹرنیشنل لیول تک جا پہنچے تو باعثِ مصروفیت حلقے سے دوری ناگزیر ہو گئی، جسکا حل فواد چوہدری نے یہ نکالا کہ حلقہ پی پی 27 میں اپنے بھائی فیصل فرید چوہدری کو ہمہ وقت حاضر رہنے اور عوامی مسائل حل کرنے کی ذمہ داری سونپی، جِسے فیصل چوہدری بخوبی نبھا رہے ہیں اور آج پی پی 27 پی ٹی آئی کا گڑھ بن چْکا ہے،اسی طرح سعیلہ سے علاقہ بائی دیس تک کی ذمہ داری فوادحسین چوہدری نے اپنے چھوٹے بھائی فرازحسین چوہدری کوسونپی اورحلقہ این اے 67 کے لیے چیف کوارڈینیٹرمقرر کیا۔

فراز حسین چوہدری نے مرکزی دفترکا چارج سنبھالتے ہی عوامی شکایات سیل کا قیام عمل میں لایا اور روزانہ کی بنیاد پر خوددفتر میں بیٹھ کر عوامی مسائل سْننے اور مسائل کے حل کروانے کے سمیت علاقہ مکینوں کی خوشی ،غمی میں بھی برابر کے شریک ہو رہے ہیں ، شہری علاقے جن میں حلقہ این اے 67 شامل نہ ہونے کے باوجود بھی چیف کوآرڈینٹر فرازحسین چوہدری شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے مسائل حل کروانا اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں ۔

جہاں تک ممکن ہو مسائل کے حل کے لئے بھرپور کردار ادا کر تے ہیں ، اب لاوارث تحصیل کو فرازحسین چوہدری کی شکل میں ایک عظیم راہنما میسر آیا ہے ، لیکن شہری عوام کے منتخب نمائندوں پر اب بھی گِلے شکوے موجود ہیں،منتخب نمائندوں سے زیادہ ایک غیر منتخب نوجوان شہری علاقے کی عوام کے قریب آ چکا ہے۔

بیشتر عوامی حلقوں میں اب اس نوجوان کو ڈپٹی میئر تحصیل جہلم دیکھنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے،قیادت کس کو کیا ذمہ داری دیتی ہے یہ تو وقت ہی بتا سکتا ہے لیکن فی الوقت نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن فرازحسین چوہدری ڈپٹی میئر کے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں،یاد رہے پی ٹی آئی ضلع جہلم کے نوجوانوں اور چند پْرانے ورکرز ابھی بھی منتخب نمائندوں کے رویوں کی وجہ سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔

فراز حسین چوہدری اْنہیں ایک بار پھر 2018 کے عام انتخابات اور کنٹونمنٹ بورڈ کے ہونے والے انتخابات کی تاریخ باآسانی دہرا نے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، بہترین حکمت عملی اور جوڑ توڑ کی سیاست سے ہار کو جیت میں بدلنے والے فرازحسین چوہدری نے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے نتائج کے لئے کون سی حکمت عملی اختیار کی یہ آمدہ بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ دوہرائی جائے گی ۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button