سوہاوہاہم خبریں

سوہاوہ میں 16 سالہ لڑکااغواء، مبینہ بدفعلی کی کوشش، مبینہ بدفعلی کی بجائے مار پیٹ کا مقدمہ درج

تھانہ سوہاوہ کے علاقہ چکوال موڑ سے سولہ سالہ لڑکے سے اغواء کے بعد مبینہ بدفعلی کی کوشش، ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے، پولیس نے مبینہ بدفعلی کی کوشش کا مقدمہ درج کرنے کی بجائے مار پیٹ کا مقدمہ درج کردیا، مرکزی ملزم سعد پولیس ملازم نبیل کا کزن ہے اس وجہ سے مقدمے کو توڑ موڑ کر درج کیا گیا، متاثرہ نوجوان کی میڈیا سے گفتگو، ڈی پی او جہلم شاکر حسین داوڑ سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق دو روز قبل سوہاوہ کے علاقہ چکوال موڑ سے سولہ سالہ لڑکے جہانزیب کو اس وقت موٹر سائیکلوں پر 8 سے 10 بااثر نوجوانوں نے زبردستی اغواء کر لیا جب وہ کسی کام کے سلسلے میں گھر سے چکوال موڑ کی طرف گیا اور زبردستی گھکھڑ گاؤں کے قریب فارم کے پاس لے گئے اور بدفعلی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے لگے۔

متاثرہ نوجوان جہانزیب نے مزید بتایا کہ ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے اور زبردستی میرے کپڑے اتارنے شروع کردیئے، مجھے مارنا شروع کردیا۔ ایک راہگیر نے مجھے ان بااثر نوجوانوں سے بازیاب کروا کر مجھے پولیس تک پہنچایا اور ساری روداد میں نے پولیس کو بتائی اور پولیس ملازمین نے مجھ سے سادے کاغذ پر انگوٹھے اور سائن کروا کر مقدمے کا رخ موڑ دیا اور میرے درج کروائے گئے مقدمے میں اغواء اور بدفعلی کی دفعات ہی نہیں شامل کی گئیں۔

متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ مرکزی ملزم سعد پولیس ملازم نبیل کا کزن ہے جو سوہاوہ میں ہی تعینات ہے جس کی وجہ سے مقدمہ کے اندراج میں تاخیر اور بدفعلی کی کوشش کی دفعات نہیں لگائی گئیں اور تھانہ کے اندر کمرے میں مجھے اور میری والدہ کو ننگی گالیاں دیں گئی اور جان سے دھمکیاں دی گی۔

اس واقعہ کا موقف لینے کے لیے پی آر او احسن بٹ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا نمبر اٹینڈ نہیں ہو سکا۔ متاثرہ لڑکے نے ڈی پی او جہلم شاکر حسین داوڑ سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button