اساتذہ کے تبادلوں کا عمل جاری، تعلیمی افسران کو سیاسی دباو کا سامنا، کلرک مافیا دیہاڑی لگانے لگے

0

دھریالہ جالپ: محکمہ تعلیم ضلع جہلم میںبھی پانچ سال بعد اساتذہ کے تبادلے کا عمل پچھلے ایک ماہ سے شروع ہے جبکہ تعلیمی افسران کو سیاسی دباو کا سامنابھی کرنا پڑ رہا ہے اورہ دوسری طرف کلرک مافیا بھی اپنی دیہاڑی کے چکروں میں لگی ہوئی ہے کیونکہ محکمہ تعلیم ضلع جہلم کی میٹرک پاس کلرک مافیا اتنی زیادہ طاقتور ہے کہ وہ ایم اے اور ایم فل اساتذہ کو بھی آئے روز ذلیل و خوار کرنے میں کوئی کسر بجا نہیں رکھتے ہیں۔

نہایت ہی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کلرک مافیا ٹیچرز کی تبادلے والی لسٹوں کا میرٹ بھی صحیح طریقے سے نہیں بنا پائی ہے کیونکہ جولائی2016 میں بھرتی ہونے والے استاد صاحب اْس سال کا اپریل کا رزلٹ دیکھا کر میرٹ میں کیسے ٹاپ پر آ سکتے ہیں، یہ دیدہ دلیری صرف کلرک مافیا کی ہی ہو سکتی ہے جس کہ وجہ سے یہ کلرک مافیا اتنی طاقتور ہے کہ آئے روز اساتذہ کو سکول ٹائم کے فوراََ بعد ہی محکمہ تعلیم ضلع جہلم کے دفتر کے آئے روز چکر کاٹنے پر مجبور کیا جاتا رہا اور اب صورت حال یہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے فائنل ٹرانسفر لسٹ کلرکوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے التواء کا شکار ہے۔

دوسری طرف چیئرمین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور ڈی سی کو منتخب نمائندوں کے فون آ رہے ہیں کہ ہمارے من پسند لوگوں کو ہی ٹرانسفر کیا جائے اور ابھی تک انٹر ڈسٹرکٹ تبادلوں کے این او سی کے حامل اساتذہ کی تعینات بھی التوا ء کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو کلرکوں کی ہیرا پھیری عروج پراور دوسری طرف سیاسی اثر و رسوخ کیا حال ہو گا ہماری قوم کے معماروں کا؟۔

سیاسی و سماجی حلقوں نے وزیر اطلاعات چوہدری فواد،سیکرٹری ایجوکیشن محکمہ تعلیم پنجاب، ڈی سی جہلم اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی جہلم کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ پر آنے والے اساتذہ کے تبادلے جلد از جلد کیے جائیں تا کہ طالب علموں کی تعلیم کا حرج نہ ہو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.