جہلم

جہلم میں ون ویلنگ کا خطرناک کھیل جاری، معصوم شہری حادثات کا شکار ہونے لگے

جہلم: مصروف ترین سڑکوں ، جی ٹی روڈ پر ون ویلنگ کا خطرناک کھیل جاری ، معصوم شہری حادثات کا شکار ہونے لگے جبکہ پولیس بگڑے امیرزادوں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں، شہریوں کا ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہرو گردونواح میں موٹر سائیکلوں پر منچلے نوجوانوں کی ون ویلنگ اور ریس لگانے کے عملی مظاہرے میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں آئے روز کوئی نہ کوئی سنگین حادثہ رونما ہورہاہے جبکہ ریس کے دوران ہزاروں روپے کا جوا بھی کھیلا جاتا ہے۔

جہلم اندرون شہر کے علاوہ جمعہ اور اتوار کے روز عسکری پٹرول پمپ تا جے اینڈ پی (پیر شہاب) تک بگڑے گھروں کے بگڑے رئیس زادے مختلف خونی کرتب کرتے دکھائی دیتے ہیں ، جنہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا موجود نہیں۔ منچلے نوجوان ون ویلنگ کا خطرناک کھیل جس میں مچھلی بن کر فش رائیڈنگ کرتے ہیں، جس میں نوجوان اپنے دونوں پاؤں ایک طرف کرکے موٹر سائیکل چلا تے دکھائی دیتے ہیں اور بریک پر پاؤں رکھنے کی بجائے دوسری سمت دونوں پاؤں اکٹھے رکھتے ہیں ،جس سے اچانک کوئی چیز آگے آنے کے باعث حادثہ کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ون ویلنگ ، فش رائیڈنگ اور خونی کھیل کے اس انداز سے شہری خواتین و بچے خوفزدہ ہو چکے ہیں ون ویلر زخود بھی زخمی اور جان کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہوتے ہیں ، جس سے یہ دوسرے موٹر سائیکل سواروں ، راہگیروں و دیگر ٹرانسپورٹروں کو بھی انتہائی کسمپرسی اور تذبذب سے دوچار کئے ہوئے ہوتے ہیں ، ون ویلروں کی زیادہ تر تعداد نوجوان اور بگڑے ہوئے رئیس زادوں کے ساتھ ساتھ ان کے دوست جن کا تعلق متوسط طبقے سے ہے شامل ہیں جو ون ویلنگ کے ذریعے خود اپنی جانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں اس دوران تیز رفتاری پر قابو نہ ہونے کے باعث سڑک کنارے چلنے والے معصوم شہریوں کو روندنے سے بھی گریز نہیں کرتے ، جس کی وجہ سے متعدد بے گناہ شہری زندگی بھر کے لئے معزور جبکہ متعدد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

جہلم کے شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم اندرون شہر اور جی ٹی روڈ پر ون ویلنگ کرنے والوں اور ون ویلنگ کے لئے موٹر سائیکلیں تیار کرنے والے کاریگروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ معصوم شہریوں کو حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button