پڑی درویزہ

سوہاوہ کے علاقہ پڑی درویزہ میں 116 افراد میں صحت انصاف کارڈ تقسیم

پڑی درویزہ میں حکومت کی طرف سے تیار شدہ صحت انصاف116کارڈ تقسیم کئے گئے ۔ پی ٹی آئی کے سابق امیدوار برائے جنرل کونسلر مرزا نذیر حسین اور چوہدری امتیاز احمد نے مستحقین میں صحت کارڈ تقسیم کئے ۔ این آر ایس پی کی نمائندگی تحصیل سپروائزر ریحانہ کوثر کر رہی تھیں ۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے تیار شدہ116صحت انصاف کارڈ پڑی درویزہ تحصیل سوہاوہ میں تقسیم کئے گئے ۔ یہ کارڈ ادارہ نیشنل رورل سپورٹس پروگرام کی تحصیل سپروائزر سوہاوہ ریحانہ کوثر اور معاون ٹیم تیار کر کے لائی تھی ۔پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ سابق امیدوار برائے جنرل کونسلر مرزا نذید حسین ، سابق جنرل کونسلر چوہدری امتیاز احمداور سماجی شخصیت شاہد محمود مغل نے تقسیم کیے ۔
یاد رہے کہ این آر ایس پی کی ٹیم نے سابق امیدوار برائے جنرل کونسلر مرزا نذیر حسین کی رہائش گاہ پر قیام کیا مسجد میں اعلان کے بعد پڑی درویزہ ملحقہ آبادیوں سے لوگوں کی بڑی تعداد یہاں پہنچ گئی 116صحت کارڈ تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پرسینکڑوں شہریوں کے شناختی کارڈ کا اندراج برائے فراہمی صحت کارڈ بھی کیا گیا ۔
این آر ایس پی کی تحصیل سپروائزر ریحانہ کوثر نے میڈیا کو بتایا کہ ان صحت کارڈوں کا استعمال ہمارے ضلع جہلم کے پانچ سرکاری ہسپتالوںاور ایک نوری ہسپتال میں موثر ہوگا ۔ان پانچ ہسپتالوں میں تحصیل دینہ کا ایک ، جہلم کے تین جبکہ تحصیل پنڈ دادن خان کا ایک ہسپتال نامزد کیا گیا ہے ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ صحت کارڈ کب سے موثر ہوں گے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ جب 50فیصد کارڈوں کی تقسیم ضلع جہلم میں مکمل ہو جائے گی تو یہ کارڈ نامزد ہسپتالوں میں موثر ہو ں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کارڈوں کے ذریعے دوران سال ایک صارف 3لاکھ 60ہزار روپے کی ادویات یا علاج کروا سکیں گے جن نئے کارڈوں کے لئے اندراج کیا گیا ہے ان کے متعلق تحصیل سپروائزر NRSPسوہاوہ کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ درج ہونے والے سب افراد کو صحت کارڈ ملیں گے بلکہ حکومتی سروے کے مطابق فیصلہ کے بعدجون 2020ء تک یہ کارڈ صرف مستحقین کو جاری کئے جائیں گے ۔
یاد رہے کہ ان صحت کارڈوں میں اکثر کارڈ ایسے افراد کے کارڈ شامل تھے جو اس دنیا میںعرصہ سے موجود ہی نہیں ہیں ۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بہتر تھا کہ ان کارڈ کے مستحقین کے نام متعلقہ آبادیوں کا دورہ کر کے اندراج کئے جاتے کیونکہ ان کارڈ کی تیاری پر اچھے بھلے اخراجات ہو گئے ہیں جو پاکستان جیسی معیشت کے لئے اچھا اقدام نہیں ہے ۔تا ہم صحت کارڈ وصول کرنے والوں کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہیں پناہ گاہوں ،لنگر خانوں، گھریلو مرغ پال یا جانوروں کی سکیموں کی طرح کہیں غیر موثر ہی نہ ہو جائیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button