پنڈدادنخاناہم خبریں

حلقہ پی پی 27 کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پرمیرا حق بنتا ہے۔ سکندر حیات گوندل

دھریالہ جالپ: ضلع جہلم کے حلقہ پی پی 27 تحصیل پنڈدادنخان کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پرمیرا حق بنتا ہے، 2000سے پی ٹی آئی کے ساتھ وابستہ ہوں ،تحصیل پنڈدادنخان سمیت ضلع جہلم میں تحریک انصاف کیلئے میری خدمات پارٹی چیئرمین سمیت مرکزی قائدین اور اہل علاقہ سے ڈھکی چھپی نہیں،نظریاتی اور بانی کارکنوں میں سے ہوں چیئرمین عمران خان پارٹی کیلئے میری خدمات کا جائزہ لے کر میرٹ پر فیصلہ کرکے ٹکٹ مجھے دیں۔

ان خیالات کا اظہار سابق ضلعی صدرو بانی رہنما پی ٹی آئی ضلع جہلم سکندر حیات گوندل نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے مشرف دور میں 2002 میں بطور صدر پی ٹی آئی تحصیل پنڈدادنخان، جہلم کے سی ایم ایچ روڈ پر ضلعی صدر کرنل (ر) ربنواز کیانی کے ہمراہ عمران خان کا جلسہ کروایا جس میں جہلم کے ایم این ایز اور ضلعی ناظم کے کی پالیسیوں کے خلاف تقریر کرنے پر عمران خان نے میرا کندھا تھپتھپاکر شاباش دی اور میری ورکنگ کو سراہا۔2007 میں سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی نظربندی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر جہلم میں اس وقت تشدد کیا جاتا تھا مگر میں نے بطورضلعی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی جہلم اور پنڈدادنخان میں موجود اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس وقت بھی آواز اٹھائی،اور پی ٹی آئی کو ضلع جہلم میں زندہ رکھا۔

سکندر گوندل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے موجودہ ایم این ایز صداقت عباسی،عامرکیانی ،سابق صدر شمالی پنجاب رانا سہیل اور دیگر پارٹی رہنما گواہ ہیں کہ میں نے عمران خان کی ہدایت پر بطور صدر پی ٹی آئی ضلع جہلم ستمبر 2009 میں ضلع بھر میں ممبر شپ کرواکر جہلم سٹی،تحصیل جہلم اور دینہ سمیت تحصیل پنڈدادنخان میں سولہ ہزار افراد کو پی ٹی آئی میں رجسٹرڈ کرکے کارڈ جاری کئے جسکا میڈیا بھی گواہ ہے۔

سکندر گوندل نے کہا کہ ضلع جہلم میں پی ٹی آئی کے فروغ اور پارٹی کیلئے ورکنگ کے حوالہ سے میرا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لہٰذا پی پی 27 پنڈدادنخان کے ضمنی الیکشن میں بطور پی ٹی آئی ورکر، کارکن اور رہنما تحریک انصاف کے ٹکٹ کا حق میرا بنتا ہے ،چیئرمین عمران خان اور دیگر قائدین میری پارٹی خدمات کی بنا پر میری گزارش پر غور کریں انشااللہ پارٹی کا وقار مزید بلند کروں گا۔

سکندر گوندل نے یہ بھی کہا کہ حالیہ الیکشن میں پارٹی ترجمان فواد چوہدری نے (ن)لیگی امیدوار کو 1800 ووٹوں سے شکست دی تھی ،اگر پارٹی چیئرمین مجھ پر اعتماد کریں تو ضمنی الیکشن میں کم از کم 15000 (پندرہ ہزار )ووٹوں کی برتری سے الیکشن جیتوں گا کیونکہ عوام کو پی ٹی آئی کیلئے میری خدمات اور پرانی وابستگی کا اچھی طرح علم ہے اور لوگوں کا مجھ پر اعتماد ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button