پنڈدادنخان

امراض قلب کے مریضوں کے لیے اسپرین کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ڈاکٹر راجہ مہدی حسن

پنڈدادنخان: امراض قلب کے مریضوں کو اپنی بہتر صحت کے لیے کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب خوراک کا استعما ل اور معمول کے مطابق 20منٹ واک کرنا ضروری ہے ،امراض قلب کے مریضوں کے لیے اسپرین کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار معروف ماہر قلب ڈاکٹر راجہ مہدی حسن گولڈ میڈلسٹ سینئر کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ہارٹ اینڈ میڈیکل سنٹر اسلام آباد نے صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امراض قلب کے مایوس اور پریشان مریضوں کے لیے امید کی کرن دل کی شریانیں کھولنے کا یہ ایک بغیر آپریشن طریقہ کار ہے جو FDA اورNIHاسلام آباد سے تحقیق شدہ ہے ایسے مریض جن کی دل کی شریانیں بند ہو چکی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں انجیوپلاسٹی یا بائی پاس آپریشن کا کہا جاتا ہے اوروہ مالی اخراجات یا اپنی مرضی سے نہ کروانا چاہتے ہوں ایسے مریضوں کے چار سے چھ سیشن کروانے سے دل کی شرنیں30 سے 40 فیصد تک کھول جاتی ہیں برن سے زہریلے مادے اور کیمیکلز گردوں سے فلٹر ہو کر اخراج کر جاتے ہیں اور مریض کی علامات جن میں سینے میں درد،گھبراہٹ،ٹھنڈے پسینے آنا اور سانس پھولنا میں بہتری آکر ختم ہو جاتی ہے مریضوں کو ایک بار ضرور آزمانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امراض قلب کے مریضوں کو اپنی بہتر صحت کے لیے کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب خوراک کا استعما ل اور معمول کے مطابق 20منٹ واک کرنا ضروری ہے ہیوی خوراک مثلا مٹن ،بیف ،انڈے کی زردی وغیرہ سے پرہیز کر کے پھل سبزیاں فروٹس جیسی نارمل غذا کے استعمال سے کولیسٹرول کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے ایسے مریض جن کو اسٹروک (فالج )ہوچکا ہے تو انکو اسپرین کے استعمال کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ امراض قلب کے مریضوں کے لیے اسپرین کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button