جہلم

جہلم شہر اور گردونواح میں غیر تربیت یافتہ انجینئروں کی بھرمار

جہلم: اندرون شہر میں غیر تربیت یافتہ انجینئروں کی بھرمار، خود ساختہ انجینئروں نے سینکڑوں شہریوں کی عمارتیں ناقص و غیر معیاری تعمیراتی مٹیریل سے تیار کرکے لاکھوں ،کروڑوں بٹور لئے ،شہری غیر تربیت یافتہ انجینئروں ، ٹھیکیداروں اور کاریگروں کے خلاف سراپا احتجاج، ڈپٹی کمشنر جہلم سے عمارتوں کے ٹھیکے حاصل کرنے والوں کو رجسٹرڈ کرنے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر و ملحقہ آبادیوں میں ناتجربہ کار خود ساختہ انجینئروں نے پیسے کے بل بوتے پر شریف ، سادہ لوح شہریوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا کر عمارتوں کا ٹھیکہ حاصل کرلیتے ہیں ، اس طرح شاطر خودساختہ ٹھیکیدار شہر کے چوک چوراہوں میں موجود مزدوروں کو عمارتیں تعمیر کرنے کا کام سونپ دیتے ہیں۔

نا تجربہ کاری کی وجہ سے مزدور ٹھیکیدار کی طرف سے فراہم کردہ ناقص و غیر معیاری مٹیریل کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے چند ماہ بعد ہی عمارتوں میں دراڑیں پڑجاتی ہیں جبکہ فرش وغیرہ زمین میں دھنس جاتے ہیں شہریوں کی شکایت کرنے پر بااثر خود ساختہ انجینئر مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے شریف شہریوں کو حراساں کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ غیر رجسٹرڈ ٹھیکیدار ماہانہ لاکھوں کروڑوں روپے کما رہے ہیں جبکہ حکومتی خزانے میں پھوٹی کوڑی بھی جمع نہیں کروائی جاتی۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ ٹھیکیداروں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے تاکہ تربیت یافتہ ٹھیکیدار رجسٹرڈ کروانے کے بعد عمارتوں کے ٹھیکے حاصل کرسکیں اور ٹھیکے کی رقم سے مقررہ کردہ ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے تاکہ میونسپل کمیٹی جہلم اور چیئرمین ضلع کونسل جہلم کو آمدنی ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button