جہلماہم خبریں

آرمی چیف کی جمہوری اداروں کی حمایت کو کمزوری نہ سمجھا جائے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور موجودہ فوجی سیٹ اپ نے جمہوری اداروں کا ساتھ دیا ہے لیکن اس حمایت کو نادانی میں کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔
اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سلسلہ وار ٹوئٹس میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاملہ پرویز مشرف کی ذات کا نہیں بلکہ ایک خاص حکمت عملی کے ساتھ پاک فوج کو ٹارگٹ کیا گیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پہلے لبیک دھرنا کیس میں فوج اور آئی ایس آئی کو ملوث کیا گیا، پھر آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کو متنازع بنایا گیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اب فوج کیایک مقبول سابق سربراہ کو بے عزت کیا گیا۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ واقعات کا تسلسل عدالتی اور قانونی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس سے بڑھ کر ہے، اگر ملک میں فوج کے ادارے کو تقسیم یا کمزور کر دیا گیا تو پھر انارکی سے نہیں بچا جاسکتا۔

بعدازاں فواد چوہدری نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ جسٹس آصف کھوسہ کا مجھے بہت احترام ہے آج انھوں نے وضاحت کی کہ مشرف کیس کے فیصلے سے وہ لاتعلق تھے لیکن انھوں نے میڈیا سے گفتگو کی تردید نہیں کی، تمام میڈیا نے یہ بیان ان سے منسوب کیا کہ مشرف کیس کو انجام تک پہنچانے کا کریڈٹ چیف جسٹس نے لیا اگر ایسا نہیں تھا اسکا نوٹس لیاجانا چاہئے تھا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی شرعی عدالت میں قائم خصوصی عدالت نے تقریباً 6 سال کی سماعت کے بعد سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی ہے۔
کیس سننے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فیصلے کے پیرا گراف نمبر 66 میں لکھا کہ اگر پرویز مشرف انتقال کر جاتے ہیں تو ان کی لاش کو تین روز تک اسلام آباد کے ڈی چوک پر لٹکایا جائے۔
مذکورہ پیراگراف کی وجہ سے حکومت نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button