جہلم

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بعد عام قیدیوں نے بھی ریلیف مانگنا شروع کردیا

جہلم: نواز شریف کے بعد عام قیدیوں نے بھی ریلیف مانگنا شروع کردیا، سابق وزیراعظم نواز شریف کو ریلیف ملنے کے بعد سزائے موت سمیت دیگرجرائم میں گرفتار قیدیوں نے چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بینچ سے استدعا کی ہے کہ بینائی سمیت ہیپاٹائٹس ، ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں ، علاج کی سہولیات کے لئے 2/2 ماہ کی جیلوں سے رخصت دی جائے تاکہ علاج معالجہ کروا سکیں ۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کو ریلیف ملنے کے بعد ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں پابند سلاسل قیدیوں نے بھی ریلیف مانگنے کے لئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو خط لکھ دیئے ہیں ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں مختلف جرائم میں سزائیں بھگتنے والے قیدیوں نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ بینائی ، ہیپاٹائٹس، ایڈز جیسے دیگر موذی امراض میں مبتلا ہیں جس کے علاج معالجہ کے لئے 2/2 ماہ کی رخصت دی جائے تاکہ پرائیویٹ ہسپتالوں سے اپنا مکمل علاج کروا سکیں۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بیرون ملک جانے کے لیے حکومت کی جانب سے عائد کردہ انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے غیر مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی ، فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو علاج کے غرض سے 4 ہفتوں کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں جیلوں میں سینکڑوں بیمار قیدیوں نے طبی بنیاد پر رہائی کی درخواستیں دائر کر رکھی تھیں ، درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی کہ نوازشریف کی طرح بیمار قیدیوں کو طبی بنیاد پرعلاج معالجہ کے لئے ضمانت دی جائے۔
بعد ازاں لاہورہائی کورٹ نے درخواست چیف سیکریٹری پنجاب کو بھجوا دی تھی اورچیف سیکریٹری پنجاب کو درخواست پر فیصلے کی ہدایات جاری کی گئیں ، عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیلوں میں سینکڑوں سے زائد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جیلوں میں قیدیوں کو علاج کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button