کھیوڑہ کے دو نوجوان ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کلر کہار سیفٹی کے ناقص انتظامات کے بھینٹ چڑھ گئے

0

پنڈدادنخان: کھیوڑہ کے رہائشی دو نوجوان ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کلر کہار سیفٹی کے ناقص انتظامات کے بھینٹ چڑھ گئے، دونوں مزدور گھر کے واحد کفیل تھے ، حادثہ ذہریلی گیس اور سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث پیش آیا، ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کلر کہا ر انتظامیہ نے حادثہ ہوجانے کے بعد بھی لواحقین کو اطلاع نہ دی ۔

تفصیلا ت کے مطابق کھیوڑہ شہر کے رہائشی جوزف جارج اور راجن پرکاش جو کہ کئی سالوں سے محنت مزدور ی کے لیے ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کلرکہار میں جاتے تھے گزشتہ روز ایڈمن افسران کے حکم پر بغیر سیفٹی انتظامات کے دونوں محنت کش گٹر کی صفائی کرنے کے لیے گئے گٹر کے گڑھے میں زہریلی گیس کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث جوزف گڑھے میں گر گیا جس کو بچانے کے لئے اس کے ساتھی راجن نے کوشش کی لیکن وہ بھی اسی کے ساتھ گرگیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں مزدور کافی دیر تک گڑھے میں گرے رہے جس کے باعث دونوں کی موت واقع ہوگئی فیکٹری انتظامیہ نے اپنی غلطی اور نااہلی کو چھپانے کے لیے لاشوں کو THQ کلر کہار کی بجائے THQ چوآسیدن شاہ منتقل کر دیا جب لواحقین ہسپتال پہنچے تو ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کے ایک افسر نے ان کو ڈریا دھمکایا کہ اس سارے معاملے کو ختم کر دو جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔

متاثرہ لواحقین کو تسلی دینے کی بجائے غیر اخلاقی رویہ سے پیش آتا رہاجس پر تھانہ چوآسیدنشاہ پولیس نے جانچ پڑتال کرنے کے بعد فیکٹری کے جنر ل منیجر سمیت دیگر انتظامیہ کے خلاف FIR نمبر79/19 درج کرکہ قانونی کارروائی شروع کر دی ہے ڈی جی سیمنٹ فیکٹری میں سیفٹی اورچیک اینڈ بلنس کا نظام نہ ہونے کے باعث پہلے بھی متعدد حادثات ہوچکے ہیں لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔

عوامی سماجی حلقوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعلی پنجاب اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری سے اپیل کی ہے کہ اس واقع کو نوٹس لیں اور غریب خاندانوں کو انصاف دلائیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.