پڑی درویزہ

عالمی یوم خواتین کی وجہ سے آج دہی عوام کی بھی فکری تربیت کا اہتمام ہو رہا ہے۔ مقررین

پڑی درویزہ: دنیا بھر میں عورتوں کے سماجی ، معاشی، ثقافتی اور سیاسی حقوق کی جدو جہد امریکہ میں 1909ء سے شروع ہوئی جبکہ پاکستان میں 2010ء سے قانونی حیثیت دی گئی ۔عالمی یوم خواتین کے سلسلے میں منعقد ہ تقریب سے’’ پودا پاکستان‘‘ کی نثینہ خالد ، رحیمہ سلطانہ ، سہیل یوسف اور میز بان پروفیسر افتخار محمود کا خطاب ۔ پودا پاکستان کے ’’جگنی تھیٹر‘‘ کی طرف ’’کم عمری کی شادی ایک جرم‘‘ کے موضوع پر مختصر ڈرامہ پیش کیا گیا ۔شرکاء کی طرف سے ڈرامے کو خراج تحسین ۔

تفصیلات کے مطابق ادارہ برائے سماجی ترقی ’’پودا پاکستان ‘‘، عوامی کمپیوٹر کمپوزنگ اینڈ فوٹو سٹیٹ سنٹر اور تحریک ترقی پڑی درویزہ کی مشترکہ تحریک پر عالمی یوم خواتین کے حوالے سے پڑی درویزہ کے سماجی کارکن ملک محمد شفیق کی رہائش گاہ پر سے ایک تقریب منعقد ہوئی ۔’’ پودا پاکستان ‘‘کی نثینہ خالد ، رحیمہ سلطانہ ، سہیل یوسف اور میزبان مقامی صحافی پروفیسر افتخار محمود نے خطاب کیا ۔

مقررین نے کہا کہ اسلام نے آج سے 14سوسال قبل عورت کے حقوق کی بات کی تھی ۔ دنیا میں عورتوں کے حقوق کے لئے امریکہ میں 1909ء سے خواتین کے حقوق کے لئے جدو جہد کا آغاز کیا گیا ۔ عالمی تنظیم اقوام متحدہ نے 1975ء میں ہر سال 08مارچ کو عالمی سطح پر عورتوں کے حقوق کے حوالے سے یوم خواتین منانے کا فیصلہ کیا ۔

مقررین نے مزید بتایا کہ حقوق کے دن منانے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دہی عوام کی بھی فکری تربیت کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ مقررین نے زور دیا کہ شادیوں میں بیش قیمت جہیز ایک لعنت ہے ہمارا مذہب اسلام یا معاشی حالت اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتی اس لئے اس لعنت سے نجات حاصل کرنا ہو گی تا کہ معاشی طور پر ناہموار معاشرے میں توازن پیدا ہو سکے۔

تقریب کے شرکا کو بتایا گیا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے ہیلپ لائن 1043دی ہے جس پر کوئی خاتون اپنے حقوق کے ازالے کے لئے کسی بھی وقت رابطہ کر سکتی ہے اس ہیلپ لائن پر خواتین وکلا بطور قانونی ماہرین بات کریں گی ۔ اس ہیلپ لائن پر صرف متاثرہ خاتون بات کرے تو بہت بہتر ہو گا ۔

تقریب میں ’’کم عمری کی شادی ایک جرم ‘‘ کے عنوان سے’’ پودا پاکستان‘‘ کے تھیٹر’’ جگنی ‘‘کی طرف سے ایک ڈرامہ پیش کیا گیا جس سے شرکاء تقریب نے خوب سراہا اور خراج تحسین پیش کیا ۔ تقریب کے آغاز پر حافظ محمد وقاص جاوید نے تلاوت کے بعد مختصر نعتیہ اشعار پیش کیے ۔

پڑی درویزہ کے معروف صحافی پروفیسر افتخار محمود نے استقبالیہ گفتگو میں بتا یا کہ پودا پاکستان کے تعاون سے اب تک پڑی درویزہ میں’’ خواتین کے ووٹ‘‘ اور عالمی یوم خواتین کے پروگرام کے علاوہ 6ماہ کے مختصر وقفہ میں دو مرتبہ ’’نادرا‘‘ کی طرف سے چلتا پھرتایعنی (MRV) کیمپ لگا یا جا چکا ہے جس سے علاقہ کے 400افراد مستفید ہو چکے ہیں ۔

مزید یہ کہ توقع ظاہر کی گئی کہ عنقریب نواحی آبادی دئیوال میں نادرا کی طر ف سے ایک اور کیمپ متوقع ہے ۔ تقریب میں 30خواتین اور مردوں شرکت کی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button