دینہ

معاشرے میں خوبصورتی تب پیدا ہوتی ہے جب ہر کوئی اپنے فرائض کی ادائیگی کرے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: ہمارا وجود،ہماری زندگی کی ہر سانس اس طرح بسرہو جس طرح ہمارے خالق اللہ کریم چاہیںاور اس کی مرضی کے تحت زندگی کی ساعتیں بسر کرنا ہی مقصد تخلیق ہے اور یہی کامیابی ہے ،آج بھی اگر کوئی اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنا چاہتا ہے تو یہ عمل اُسے اُسی زمانہ جاہلیت کی طرف لے جاتا ہے جو آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام فرائض کی ادائیگی کا حکم فرماتا ہے ،انسانی معاشرے میں خوبصورتی تب پیدا ہوتی ہے جب ہر کوئی اپنے فرائض کی ادائیگی کرے اگر فرائض ادا نہ ہوں اور صرف حقوق کی بات ہوگی تو کسی کو بھی اُس کے حقوق نہیں مل پائیں گے ،کیونکہ ایک کا فرض دوسرے کا حق ہوتا ہے اگر سب اپنے فرائض کی ادائیگی کریں گے تو اس طرح ہر ایک کو ان کے حقوق بھی مل جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فانی جہان ہے ابھی فرصت ہے آخرت کا انحصار اسی دنیا کی زندگی پر ہے جہاں انعامات کی بات ہوتی ہے وہاں سزا کا ذکر بھی ملتا ہے ،ہر ایک خود کو جانتا ہے کہ میں صحیح کر رہا ہوں یا غلط کر رہا ہوں ایسا ممکن نہیں کہ کوئی جزا و سزا کے بغیرچلا جائے جس نے جتنا کیا ہوگا اتنا وہ جواب دہ بھی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کا بنیادی فریضہ حق پہنچانا تھا اور یہ فرض آپ ﷺ نے انتہائی خوبصورتی سے ادا کیا تب سے لے کر آج تک غلط اور صحیح کی پہچان ہر بندے تک پہنچ چکی ہے چاہے کوئی پڑھا لکھا ہے یا ان پڑھ ہے اب یہ ہر ایک کا اپنا اختیار ہے کہ وہ حق کی طرف جاتا ہے یا ناحق اختیار کرتا ہے ،اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button