دینہ

مکمل علم حاصل کرنے کیلئے دینی اور دنیاوی علوم حاصل کرنا ضروری ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: جب بھی کوئی معاملہ پیش آ جائے اس معاملے کو آپ ﷺ کے حضور پیش کر دیا جا ئے یعنی اس معاملے میں آپ ﷺ کا کیا حکم ہے ،حدود کیا ہیں،پھر وہ معاملہ عین اللہ کریم کے حکم کے مطابق ہو جائے گا ،جب ہم کسی معاملے کی تشریحات اپنی مرضی سے کرتے ہیں تو ہمارا مقصد اس مسئلے سے نہیں ہوتا بلکہ اپنی ذات اور پسند کے گرد گھوم رہا ہوتا ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان نے ایک اجتماع سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ علوم دو طرح کے ہیں ایک فطری علم ہے جو ہر ذی روح کو اللہ کریم عطا فرماتے ہیں جیسے مچھلی کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی میں تیرنا شروع کر دیتا ہے یہ علم ہر جاندار کو اللہ کریم عطا فرماتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا علم ہے کسبی جسے اختیاری طورپر حاصل کیا جاتا ہے آگے اس کی دو قسمیں ہیں ایک علم الادیان اور دوسرا علم الابدان ایک دینی علم اور دوسرا دنیاوی علم ،یہ دونوں علوم حاصل کیے جائیں تو مکمل علم ہو گا جسے العلم کہا گیا اگر کسی نے صرف دینی علم حاصل کیا تو اس نے آدھا علم حاصل کیا اگر کسی نے صرف دنیاوی علم حاصل کیا اس نے بھی آدھا علم حاصل کیا اس لیے مکمل علم حاصل کرنے کے لیے دونوں علوم حاصل کرنا ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علم وہ جس کے اثرات مثبت ہوں وہ علم تعمیر کی طرف لے کر جاتا ہے ،دنیاوی علوم کا ماحاصل بھی تب ہو تا ہے جب دینی علوم بھی حاصل کیے جائیں ،آج بھی سائنس نے جتنی بھی ترقی کر لی ہے زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کے احکامات کی تصدیق ہی ہو رہی ہے ،حالانکہ قرآن کریم کے کسی حکم کو کسی کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے ،اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور اپنے بچوں کو دنیاوی علوم ضرور سکھائیں لیکن دینی علوم بھی سکھائیں جن سے اسے اپنی پہچان ملتی ہے مقصد حیات ملتا ہے ،نبی کریم ﷺ سے اُمتی کا رشتہ اللہ کریم سے مخلوق کا رشتہ عقائد ،عبادات سے لے کر معاملات تک راہنمائی ملتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button