دینہاہم خبریں
ٹرینڈنگ

دینہ کا نوجوان پولیس کی غیر قانونی حراست میں جاں بحق، ڈی پی او جہلم کا نوٹس، 2 پولیس اہلکار گرفتار

دینہ/جہلم: کینٹ پولیس چوکی جہلم میں غیرقانونی طور پرحراست میں لیا گیا دینہ کا رہائشی نوجوان جاں بحق ہو گیا، ڈی پی او جہلم کے حکم پر سب انسپکٹر اور ہیڈ کانسٹیبل پر قتل کا مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کینٹ چوکی کینٹ جہلم میں چوری کے شبہ میں ڈومیلی محلہ (کوثر آباد) دینہ کا رہائشی ولید محمود عرف مانی ولد ظفر محمود کو تھانہ سٹی چوکی کینٹ انچارج سب انسپکٹر نوید افضل اور ہیڈ کانسٹیبل محمد تنویر نے غیر قانونی طور پر 11 دن سے حراست میں لے کر رکھا تھا جو دوران حراست جاں بحق ہو گیا۔

پولیس کے مطابق غیرقانونی طور پر حراست میں لیا گیا نوجوان ہارٹ اٹیک سے جاں بحق ہوا جبکہ ذرائع کاکہنا ہے کہ پولیس نے دوران حراست نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، میڈیا کو موصول ہونے والی ویڈیو میں نوجوان کے سر پر گہرے زخم کے نشان نظر آ رہے ہیں جس سے خون نکل رہا ہے۔

نوجوان ولید محمود کے بھائی طیب محمود نے مقدمہ درج کرواتے ہو ئے بتایا کہ 3 دسمبر کو میں اپنے چھوٹے بھائی ولید محمود کے ہمراہ عدالت میں تاریخ پیشی پر اس کے ساتھ مو ٹر سائیکل پر جہلم آ یا اور تاریخ سے فا رغ ہو کر میرا بھائی ولید محمود مو ٹرسائیکل پر سرائے عالمگیر روانہ ہو گیا لیکن گھر واپس نہ آیا ، کافی تلاش کیا 5 دسمبر کو اپنے بہنو ئی خرم کے ہمراہ تھانہ سول لائن جہلم میں آیا اور بھائی کی گمشدگی کی رپو رٹ درج کروائی۔

نوجوان کے بھائی نے بتایا کہ اگلے روز دوران تلاش پتہ چلا کہ میرا بھائی ولید محمود پولیس چوکی کینٹ جہلم میں گرفتار ہے ، تو میں اس سے ملنے پولیس چو کی کینٹ جہلم گیا تو مجھے ملنے نہ دیا گیا کافی منت سماجت کی اور ڈیوٹی پر مو جود کانسٹیبل ملک آصف نے ملاقات کروائی ، میرے بھائی نے مجھے دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا اور بتایا کہ پولیس اس پر کئی روز سے تفتیش کی آڑ میں مبینہ تشدد کر رہی ہے اور میں نے پولیس سے بھائی کو چھڑوانے کی بات کی تو ان کی جانب سے رشوت طلب کی گئی جو میں ادا نہ کر سکا

نوجوان کے بھائی نے بتایا کہ منگل کی شام مجھے اطلاع ملی کہ ولید محمود پولیس کی حراست میں جاں بحق ہو گیا ہے۔ اس اطلاع پر میں اپنے ماموں محمد افضال اور اپنے عزیز واجد محمود کے ہمراہ آیا، پولیس کی زبانی معلوم ہوا کہ میرے بھائی ولید محمود اتفاقیہ طور پر جاں بحق ہو گیا ہے اور میرے بھائی کو نوید افضل سب انسپکٹر انچارج پولیس چو کی کینٹ جہلم نے ناحق پکڑ کر خفیہ تحویل میں رکھ کر بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے میرے بھائی کی موت واقع ہو ئی ہے اور میرے بھائی کے سر اور جسم پر واضع نشانات بھی مو جود ہیں ، ہمارے ساتھ زیادتی ہو ئی ہے، وزیر اعظم ، و زیر اعلی پنجاب ، آئی جی پنجاب ہمیں انصاف دیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم رانا طاہر الرحمٰن نے فوری ایکشن لیتے ہو ئے تھانہ سٹی چو کی کینٹ انچارج سب انسپکٹر نوید افضل اور ہیڈ کانسٹیبل محمد تنویر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا جبکہ باقی کینٹ چو کی کے پورے عملے سمیت 11ملازمین جس میں ایک اے ایس آئی 2حوالداراور 7کانسٹیبل کو معطل کر کے لائن حاضر کر دیا اور نو جوان ولید کی پوسٹمارٹم کے بعد لاش کو ورثاء کے حوالے کر دیا۔

بعد ازاں گرفتار تھانہ سٹی چو کی کینٹ کے انچارج سب انسپکٹر نوید افضل اور ہیڈ کانسٹیبل محمد تنویر کا دو رو زہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ، جاں بحق ہو نے والا نوجوان ولید محمود ایک بچی کا باپ بھی تھا ، نماز جنازہ ادا کر دی گئی اور کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button