جہلم

جہلم کے اندورنی علاقوں میں بھینسوں کے غیر قانونی باڑے شہریوں کے لیے وبال جان بن گئے

جہلم: شہر کے اندورنی علاقوں میں بھینسوں کے غیر قانونی باڑے شہریوں کے لیے وبال جان بن گئے۔ کروڑوں روپے مالیت کی لاگت سے شہر کے مختلف علاقوں میں بچھائی جانے والی سیوریج لائنوں کا نظام درہم برہم، بھینسوں کے باڑوں کے باعث گوبر اور غلاظت سے شہر کے اندورنی علاقوں میں سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔

بلال ٹاؤن، آفیسر کالونی، مشین محلہ، اسلام پورہ، کریم پورہ، محمود آباد، جادہ، کالا گجراں، مجاہدآباد ، ڈھوک فردوس، محلہ سلیمان پارس سمیت دیگر علاقوں کے گلی محلوں میں درجنوں مقامات پر بھینسوں کے غیر قانونی باڑے قائم ہو چکے ہیں۔ بھینسوں کے ان غیر قانونی باڑوں کی وجہ سے شہر کے اندورن علاقوں میں نظام زندگی بری طرح سے مفلوج ہو چکا ہے۔

سکولوں کالجز میں جانے والے طلباء و طالبات بھی سخت ذہنی قرب کا شکار ہیں، بھینسوں کے باڑوں والے علاقوں میں بدبو تعفن سے سانس لینا محال ہو جاتاہے۔ سانس کے امراض میں مبتلاء شہری ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں اس حساس نوعیت کے معاملہ پر ضلعی انتظامیہ قانون نافذ کرنے والے ادارے محکمہ ماحولیات خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ متعلقہ ادارے سب اچھا ہے کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کر کے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہو جاتے ہیں۔

شہریوں نے چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی، ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر سمیت اندورنی علاقوں میں قائم بھینسوں کے غیر قانونی باڑوں کا نوٹس لیتے ہوئے مالکان کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے جائیںاور بھینسوں کے باڑے شہری آبادی سے دور قائم کروائے جائیں تاکہ شہری بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button