دینہ

ہماری جان مال حتی کے ہماری ہرشئے اللہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: ہماری جان مال حتی کے ہماری ہرشئے اللہ کی دی ہوئی امانت ہے ،اسے ہم نے اُسی کے حکم کے مطابق سرف کرنا ہے ،استعدادِ انسانی کے مطابق کوئی بھی کام کیا جائے تو اس کا نتیجہ اللہ کریم کے سپرد کر دینا چاہیے ،بے جا خرچ کرنے والے کو اللہ کریم پسند نہیں فرماتے۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنی نمود و نمائش اور اپنی بڑائی کے لیے فضول خرچ کرتے ہیں تو اللہ کریم کا فرمان ہے کہ وہ شیطان کی راہ پر چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایک بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ہر شئے کو اللہ کریم نے انسان کے لیے پیدا فرمایا ہے لیکن جہاں بھی ہم تجاوز کریں گے پھر وہ عمل شیطان کی پیروی میں ہو گا اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ،اور اس کی دشمنی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس سے کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے ،اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بات کا اظہار تب صحیح ہوگا جب اس کی سند بھی ہو اور سند عمل سے ہے ،بغیر سند کے کوئی بھی بات اپنی خواہش ہو سکتی ہے اور خواہشات کے ٹکراؤ سے فساد برپا ہوتا ہے جس کے پاس جتنی قوت ہو گی وہ اتنا ظالم کہلائے گا جس کا نقصان ہوگا وہ مظلوم کہلائے گا اور ہمارا کردار تو اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ مظلوم کا جہاں تک اختیار ہے وہاں وہ بھی ظلم ہی کر رہا ہے ،اس کے لیے ایک نظام اور اصول چاہیے جس سے معاشرے میں اعتدال ہو۔

انہوں نے کہا کہ معتدل معاشرہ کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اس مخلوق پر وہی اصول نافذ ہوں جو خالق نے اس مخلوق کے لیے فرمائے ہیں تا کہ معاشرہ پھل پھول سکے، ہمیں خود اپنے آپ پر ان اصولوں کو نافذ کرنا چاہیے تا کہ جو میرے حصے کا ہے میں وہ تو کروں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button