کالم و مضامین

حادثہ 302 کا

تحریر: احسن وحید

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تعزیرات پاکستان دفعہ 302 قتل کے جرم میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کی دفعہ ہے اور ہماری بدقسمتی کہ انسانی جان کے ضائع ہونے پر ہمارے تھانوں میں اتنے وسائل نہیں کہ تفتیش کا بروقت آغاز کیا جا سکے۔
بد قسمتی کا عالم یہ ہے کہ یہاں کسی ایک شخص کے جرم کرنے پر اس کے پورے خاندان کو ملوث کرنا معمولی بات ہے چاہے وہ جائے وقوعہ پر موجود ہوں نہ ہوں۔تفتیشی آفیسر یہ جان لینے کے باوجود کہ جرم کسی ایک نے کیا ہے باقی نامزد لوگ ملوث نہ ہیں ان کو بے گناہ کرنے کے لیے یا تو پولیس کے تفتیشی آفیسر کو لاکھوں روپے کا نذرانہ دینا ہو گا یا پھر تفتیشی آفیسر اس خوف سے کہ افسران کے پاس آگے انکوائریوں میں نہ جانے وہ کیا کریں۔ میرٹ پر تفتیش کرنے والے تفتیشی آفیسر کے بڑے صاحب نے نذرانہ لے لیا ہو اور اپنی انکوائری میں من مرضی کریں۔
یہاں تو یہ سب معمولی کام ہے ایمانداری سے کام کرنے والے کو بھی خوف رہتا ہے کہ میری تفتیش میرٹ پر ہے لیکن نہ جانے افسران اور عدلیہ اس سے اتفاق کریں گے یا نہیں۔ یہاں تو قتل جیسے سنگین جرم میں بے گناہ لوگوں تو تب انصاف ملتا ہے جب ان کی ہڈیاں بھی قبر میں کھائی جا چکی ہوتی ہیں۔
ایسا پاکستان کی تاریخ میں ہو بھی چکا ہے کہ بے گناہ شخص کو عدلیہ سزائے موت دے دیتی ہے اور اسے تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہوتا ہے تب جا کر اعلی عدلیہ اسے بے گناہ قرار دیتی ہے، یہ ہمارے سسٹم کا اتنا بڑا مذاق ہے کہ عام انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں اس نظام کو بدلنے کا ذمہ لے کر اقتدار میں آنے والوں کے ضمیر ہی مردہ ہو چکے ہوتے ہیں کیونکہ اقتدار میں آنے سے قبل اقتدار میں آنے کے لیے اسی فرسودہ نظام کو بدلنے کا نعرہ ہی تو انہیں اقتدار میں لاتا ہے۔
گزشتہ دنوں نوجوان کی موت کا ایک واقعہ رونما ہوتا ہے، پولیس کو اطلاع ملتی ہے، تفتیش شروع ہوتی ہے لیکن ابتدائی تفتیش پر ہی تفتیش کو اس فرسودہ نظام کا اتنا زور دار طمانچہ پڑتا ہے کہ ہماری تفتیش ہی چکرا کر رہ جاتی۔ راقم کے علاوہ وہاں موجود مرنے والے نوجوان کے عزیز و اقارب کی ایک اکثریت وہاں موجود تھی جو مختلف چہ مگوئیوں میں مصروف تھے لیکن کوئی بھی تفتیش اور موقعہ پر نظر آنے والے حالات کے پس پشت مناظر اور حالات کو جاننے کی کوشش میں نہ تھا۔
دن کو ملنے والی لاش کو ہسپتال منتقل کرنے تک تقریبا تین سے زائد گھٹنے لگ چکے تھے اور قتل یا حادثہ کا فیصلہ کرنے کے لیے موقعہ کی صورتحال جانچنے کے لیے اتنا وقت کافی ہوتا ہے، بہر حال ذہن بن جانے اور تفتیش کے رخ کا تعین ہونے کے بعد اگلا مرحلہ میڈیکل کا ہوتا ہے جس کی ابتدائی رپورٹ کیس کے رخ کے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
اس کیس میں ملنے والی نعش کے متعلق ہسپتال پہنچانے سے پہلے ہی اکثریت اس فیصلے تک پہنچ چکی تھی کہ یہ ایک حادثہ ہے یا قتل لیکن شروع سے ہی اس ملک میں یہی کچھ ہوتا آیا ہے کہ جب آپ ایک فیصلے پر پہنچ جائیں کہ جس کے قدرتی ہونے پر آپ کو کوئی فائدہ مل سکتا ہو تو پھر شیطانی ذہن آپ کی مشاورت میں شامل ہونے کے لیے تگ و دو کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اس کیس کی اگر بات کی جائے تو ابتدائی چند گھنٹوں میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ یہ ایک حادثہ تھا لیکن پولیس احتجاج جیسی گھناؤنی دھمکی کے آگے بے بس ہو کر ایک باپ بیٹے سمیت ایک باشعور انسان جس کی آدھی سے زیادہ زندگی بیرون ملک گزری جو برطانوی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال ڈیرھ سال سے پاکستان میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اس کو اس مقدمہ میں ملوث کیا جاتا ہے کیونکہ چند ماہ قبل ایک زمین کے تنازعے پر لڑائی کے خدشہ پر اس نے پولیس کو درخواست دی تھی جس پر مرنے والے کے قریبی عزیز کے ساتھ معاملہ جرگے میں رفع دفع ہو گیا۔
بہر حال اب کیونکہ معاملہ پولیس کی تفتیش کا ہے تو جیسے میں اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ایک ایسے فرسودہ نظام کا حصہ ہیں جہاں انصاف دینے کے لیے جس کا ضمیر زندہ بھی ہو اور وہ زیادتی کا تو حصہ بن رہا ہولیکن ظلم کا حصہ بننے سے انکاری ہو وہ بھی ایسے سسٹم کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔
اس کیس کا دیر سے یا جلدی فیصلہ تو ہو ہی جانا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ جب انسان مرنے والے کو بھول کر محض اپنی تسکین اور تسلی کے لیے دوسروں کے مشوروں پر چلتا ہے۔میں بالکل بر ملا اور بلا روک ٹوک بے خوف ہو کر انتہائی یقین سے یہ بات کرنے سے کوئی ڈر یا خوف نہیں رکھتا کہ یہ ایک حادثہ ہے جس کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے اور حالات و واقعات بھی اس بات کی یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ معاملہ قتل کا نہیں معاملہ حادثے کے بعد عناد یا ذاتی دشمنی کی بھینٹ کا بن چکا ہے۔
دعا گو ہوں اللہ پاک ہم سب پر اپنا فضل و کرم کرے اور جو اپنے ضمیر کے زندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اللہ کرے وہ کسی ظلم کا حصہ نہ بنیں بلکہ حق و سچ کے لیے اپنے حصے کی جنگ اس نظام سے لڑ جائیں اجر انسان نہیں اللہ پاک کی ذات دیتی ہے۔
راقم کی امید زندہ ہے کیونکہ اب بھی یہاں اداروں میں کم ہی پر ایسے لوگ موجود ہیں جو زیادتی تو کر سکتے ہیں پر ظلم نہیں اور ایک بے گناہ شخص کو جان لینے کے بعد کہ وہ اس جرم کا حصہ نہیں ملوث کرنا ظلم سے کم نہیں اللہ کرے اس کیس کا فیصلہ میرٹ اور انصاف پر ہو ۔
 
 
 
 
 
 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button