پنڈدادنخان

ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کے نوکری سے نکالے گئے سینکڑوں ملازمین بے یار و مددگار

پنڈدادنخان: عدالتی فیصلہ کے تحت ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کے نوکری سے نکالے گئے سینکڑوں ملازمین یونین کے ریٹائرڈ عہدیداروں کی غیر موثر پلاننگ اور عدم دلچسپی کی وجہ سے بے یارومددگار، چند روز قبل فیکٹری گیٹ کے سامنے ہونے والا احتجاج بھی پرانے لیڈروں کی نااتفاقی اور ذاتی مفادات کی نذر ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق فیکٹر ی انتظامیہ کے باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کمپنی پرانے پلانٹ (1982) کو تبدیل کرکے نیا پلانٹ لگانا چاہتی ہے،جس سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں فرق پڑے گا جبکہ بی ایم آر اور اس کے بعد پلانٹ کو پنجاب لیبر قوانین کے تحت چلا ئے گی۔

کمپنی اپنے سابقہ ورکروں میں سے محنتی دیانت دار اور ہنر مند افراد کو ترجیح دے گی۔ کمپنی نے تمام ریٹائرڈ اور ری ٹرنچ ورکروں سے اپنے واجبات کی ادائیگی کیلئے درخواستیں طلب کر رکھی ہیں تا کہ نوکریوں سے نکالے گئے ورکروں کو ان کے واجبات ادا کیے جا سکیں اور ورکرز اپنے گھراور معمول کے معاملات جاری رکھ سکیں کمپنی کے ان اقدامات کی وجہ سے پلانٹ کی پروڈکشن بہتر ہوگی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے جس سے نہ صرف پلانٹ کے ملازمین کو روزگار ملے گا بلکہ تحصیل بھرمیں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لیبر لیڈرشپ اپنے ذاتی مفادات کی بنا پر معاملات حل نہیں ہونے دینا چاہتی جس کے باعث سینکڑوں مزدور بے روزگاری کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button