جہلم

میونسپل کارپوریشن جہلم کی مبینہ ملی بھگت سے رہائشی علاقے کمرشل سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل

جہلم: میونسپل کارپوریشن کے شعبہ بلڈنگ کی مبینہ ملی بھگت سے گنجان آباد ر ہائشی علاقے غیرقانونی کمرشل سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل ۔میونسپل کارپوریشن کے شعبہ پلاننگ اور شعبہ بلڈنگ کے انسپکٹروں کی ملی بھگت سے رہائشی علاقوں میں کارروباری سرگرمیاں جاری ، میونسپل کارپوریشن کو ماہانہ لاکھوں ، کروڑوں کا نقصان ، شہریوں کا ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے شعبہ بلڈنگ کے ذمہ داران کی ملی بھگت سے اندرون شہر کے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں منی فیکٹریاں ،گودام ،منی مارکیٹیں آبادیوں کے لئے سیکورٹی رسک ،ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بننے لگیں۔
اندرون شہر کے گلی محلوں سمیت گنجان آباد علاقوں میں فرنیچرز، ویلڈنگز، گیس کی ریفلنگ، بیوٹی پارلرز، سکولز ، ہسپتالوں سمیت دیگر کارروبار کرنے والے درجنوں اقسام کی کمرشل سرگرمیاں کھلے عام رہائشی علاقوں میں جاری ہیں ۔ مالکان نے بظاہر مکانوں کو کمرشل سرگرمیوں کے لئے بھاری کرایوں کے عوض کرائے پر دے رکھا ہے ،جس کے باعث رہائشی علاقوں اور گلیوں میں شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کا گھروں سے نکلنا محال ہوچکا ہے۔
بیشتر مقامات پرسلنڈر کی ریفلنگ، پرائیویٹ ہسپتال ، بیوٹی پارلرز، آرا مشین، ویلڈنگ ، فرنیچرز بنانے سمیت ایسے کاروبا رسے منسلک افراد نے رہائشی علاقوں کے اندر کارروباری سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں جس کیوجہ سے علاقہ مکینوں کے سروں پر بھی خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں اور میونسپل کارپوریشن کے شعبہ پلاننگ اینڈ بلڈنگز کو بھی ماہانہ لاکھوں ، کروڑوں کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریو ں نے کمشنر راولپنڈی ، ڈپٹی کمشنر ، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button