کالم و مضامین

سوشل میڈیا اور ڈاکیا

تحریر: ادریس چودھری

سوشل میڈیا نے ہر گھر کے رازدار ڈاکیہ کی اہمیت ختم کر د ی ۔ کبھی منی آرڈر لاتا تو کبھی کسی کے دنیا چھوڑنے کے ٹیلیگرام پہنچانا بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ، اسلامی دور میں تبلیغ کا سلسلہ خطوط کے ذریعے جاری رہا۔لوگوں کے رازوں ، محبتوں چاہتوں اور دکھوں کا امین ڈاکیہ، انٹر نیٹ، موبائل ایس ایم ایس اور موبائل فون کمپنیوں کے سستے پیکچز نے جس کی اہمیت ختم کردی۔

جدید سائنسی سہولتوں سے پہلے ڈاکیہ اطلاعات کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ۔ لوگ اپنے چاہنے والوں کے محبت بھرے خطوط کا انتظار کر تے ، کہیں سرخ سیاہی یا کٹے کونے والاخط اسی پڑھاتے اور اپنے پیاروں کے نام چٹھی بھی اسی سے لکھواتے ، اس طرح ڈاکیہ ہر گھر کا راز دار ہوتا۔

پیاکے ہجر میں تڑپنے والیوں کے جذبات صفحہ قرطاس پر بکھیر کر ان کے پیاروں کے نام روانہ کرتا اور ان کے جوابات بھی وہی انہیں پڑھ کر سناتا اور شرم سے دوہری ہونے والی نوبیاہتا دلہنیں اس کی زبان سے اپنے پیا کے جذبات سنتیں اور مائیں بھی اپنے بیٹوں کے نام ان کی دلہنوں کے خلاف خط اسی سے لکھواتیں منی آرڈر بھی یہی لے کے آتا اور کسی کے دنیا چھوڑنے کے ٹیلیگرام پہنچانا بھی اسی کی ذمہ داری ہو۔

اگر چہ ڈاک کا نظام اشو کا دور کی نشانی ہے اور اسلامی دو ر میں خصوصی قاصدوں کے ذریعے تبلیغ کا سلسلہ بھی خطوط کے ذریعے جاری رہا اور بادشاہ بھی مخالف حکومتوں اور دوست بادشاہوں کو خصوصی قاصدوں کے ذریعے خطوط بھیجتے اور وہ قاصد ہی بادشاہ کا خط پڑھ کر سناتا بعض اوقات قاصد کو مہمان نوازی اور انعام و کرام سے نوازا جاتا۔

کبھی مخالف بادشاہ خط کے کسی ناپسندیدہ فقرے پر ناراض ہو کر قاصد کی گردن اتروا دیتے لیکن بر صغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے پر محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری کے دور میں ڈاک کا نظام انتہائی ترقی پر پہنچا اور ڈاک چوکیاں قائم کی گئیں اور ہر کارے رکھے گئے اور مغل شہزادوں نے پیعامبر لونڈیوں کے پیٹ کے ہلکے ہونے کی وجہ سے قاصد کبوتروں کا سہارا لیا۔

شہزادہ سلیم کے قاصد کبوتر کے ذریعے ہی انار کلی سے محبت کی پینگیں پڑھیں اگرچہ اردو شاعری میں بھی پیامبر کی بڑی اہمیت ہے لیکن اکثر اوقات پیامبروں کے رقیب بننے کے قصے بھی عام ہیں اور اگر بچوں کو قاصد بنایا جاتا اور بچوں کو ٹافیوں کا لالچ دے کر رقیب ان سے خط لے لیتے اور کہیں محبوبہ کے والد کے ہاتھ خط لگ جاتا تو قیامت آجاتی ایسے ادوار میں بھی محکمہ ڈاک ایک ذمہ دار اور معزز محکمہ رہا ہے۔

باوردی ڈاکیہ خاکی وردی پہنے اور سر پر طرہ دار پگڑی سجائے جب دیہاتوں کی گلیوں میں آتا تو ہر گھر میں انتظار کی کیفیت ہوتی کہ شاید ان کے کسی عزیز کی خیر خبر مل جائے دلہنیں اپنے میکہ سے ا ٓنے والے خطوں کا انتظار کرتیں، مائیں ڈاکیہ کو گھر میں بلا کر خاموشی سے اپنے بیٹے کو گھر واپس آنے اور شادی کرنے کے لیے کہتیں اور چاندی دلہن کی تلاش مکمل کرنے کی نوید دیتیں۔

منی آرڈر ملنے سے خاندان والوں کی خوشی ہوتی تو ڈاکیہ کا منہ میٹھا کر وا کر اسے بھی اپنی خوشیوں میں شریک کیا جاتا کبھی کبھی ڈاکیہ سرخ سیاہی سے لکھا خط لاتا تو پتہ چلتا کہ کسی کے میکہ میں خیریت نہیں ہے اور جب کسی کے گھر تار آنے کی اطلاع ملتی تو کہرام مچ جاتا تار کو دیہاتوں میں موت کی اطلاع سمجھا جاتا لیکن گاؤں میں پڑھے لکھے افراد کی کمی کی وجہ سے انگریزی میں لکھا تا ر دوسرے گاؤں سے پڑھوا کر لایا جاتا تو توکبھی کبھاریوں بھی ہوتا کہ کسی مہمان کے آنے کی اطلاع ہوتی تو گھر میں پھر سے خوشی پھیل جاتی۔

انٹر نیٹ اور موبائل فون کے ایس ایم ایس ،فیس بک ،واٹس ایپ،ٹوئیٹر،انسٹا گرام اور دیگر بے شماربرق رفتار رابطہ ایپلیکشن نے خط کی آدھی ملاقات کو مات دے دی اب کوئی بھی ڈاکیہ کا منتظر نہیں ہوتااور اب نئے بھرتی ہونے والے ڈاکئے بھی مجبوراً یہ نوکری کرتے ہیں اور اب وہ وردی پہننے سے بھی شرمندہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button