جہلم

سول ہسپتال جہلم میں سہولیات کا فقدان، ایک بیڈ پر 4 مریض، نہ آکسیجن نہ وینٹی لیٹر، شہریوں کو شدید مشکلات

جہلم کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کی سب سے چھوٹی وارڈ ،7بیڈ پر مشتمل وارڈ میں ایک بیڈ پر 3 سے 4 مریض بچے رکھنے پر مجبور ،نہ آکسیجن نہ وینٹی لیٹر، شہریوں کو شدید مشکلات۔

تفصیلات کے مطابق جہلم کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کی چلڈرن وارڈ میں آنے والے مریض بچوں اور ان کے والدین کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے، چند ماہ پہلے کروڑوں روپے کی لاگت سے ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم کی ری ویمپنگ کراوائی گئی جس کا افتتاح چند ماہ قبل سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے کیا تھا لیکن ابھی تک چلڈرن وارڈ کو نہ وارڈ مہیا کی گئی اور نہ ہی کوئی آکسیجن اور وینٹی لیٹر کی سہولت دی گئی۔

یہ وارڈ ایک چھوٹے سے کمرے میں بنائی گئی ہے جس میں بمشکل 7 بیڈز رکھے گئے ہیں، ہر بیڈ پر 3 سے 4 مریض بچے ہر وقت موجود ہوتے ہیں اس وارڈ میں نہ کوئی بینچ موجود ہے اور نہ ہی کوئی بنیادی سہولت ہے ،ہر قسم کے مریض بچوں کے لیے ایک ہی وارڈ ہے جس سے مریض بچوں کو ایک دوسرے سے وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ ہے۔

اس وارڈ کے انچارج ڈاکٹر عدنان سیٹھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بارہا ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد محمود اور ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی کہ ہمیں وارڈ دی جائے لیکن ان کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی، اس طرح بچوں کو ایک دوسرے کی بیماری لگ سکتی ہے اور ہم اکثر سیریز قسم کے بچوں کو مجبور ہو کر راولپنڈی ریفر کر دیتے ہیں کیونکہ ہسپتال کی وارڈ میں کسی قسم کی کوئی بنیادی سہولت نہیں ہے۔

یہاں آنے والے مریض بچوں کی ماؤں نے کہا کہ یہ جہلم کا سب سے بڑاسرکاری ہسپتال ہے لیکن یہاں سہولیات کا فقدان ہے ہم مجبور ہو کر ایک بیڈ پر 3 سے 4 بچوں کو رکھنے پر مجبور ہیں ،شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button