پنڈدادنخان سے دوسرے شہروں کیلئے چلنے والی مسافر وینوں میں اوورلوڈنگ معمول بن گیا، مسافرپریشان

0

کھیوڑہ: پنڈدادنخان سے جہلم، للہ، بھیرہ، منڈی بہاؤالدین چلنے والی ٹیوٹا ہائی ایس کوچز میں اوورلوڈنگ معمول، مسافر خصوصا خواتین پریشان، منہ مانگے کرایے وصول کرانا معمول بن گیاجبکہ ٹریفک پولیس منتھلی لیکر خاموش تماشائی، آرٹی سیکرٹری کرایہ نامہ پر عمل درآمد میں ناکام جبکہ قائم مقام ڈی ایس پی ٹریفک آفس تک محدود، 14 سیٹ والی گاڑی میں 23 سے زیادہ سواریوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح اووورلوڈ کرنا انسانیت کی تذلیل اور خطرناک ہے۔نوٹس کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق پنڈدادنخان سے جہلم روٹ پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں اوور لوڈنگ معمول بن گیااور اس ضمن میں ڈرائیور حضرات کی دیدہ دلیر ی دیدنی ہے جیسے انہیں کسی کا ڈر خوف ہی نہیں ہے چودہ سیٹ والی ٹیوٹا ہائی ایس میں 23سے زائد سواریوں کو بٹھانانہ صرف بہت بڑے حادثے کا باعث بن سکتاہے بلکہ قانونی اور اخلاقی طور پر قابلِ گرفت جرم بھی ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس کے اہلکار مک مکا کر کے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور ان کالی بھیڑوں کو منتھلی سے رام کرکے ڈرائیور و کنڈیکٹر بے فکر ہوجاتے ہیں اور زائد سواریاں بٹھانے پر اگر کوئی مسافر بولتا ہے تو ان سے بھی بداخلاقی معمول بن چکا ہے جبکہ ٹریفک اہلکارو ں کا مرکز عمومی طور پر موٹر سائیکل سواروں کے چالان کرنے اور مک مکا کرنے کی صورت میں دیکھاجاتا ہے۔ ہائی ایس کوچ میں ڈرائیور سیٹ کے پیچھے خالی جگہ کو بطور سیٹ استعمال کرتے ہوئے چار چار سواریاں بٹھانا ظلم اور انسانیت کی تذلیل ہے۔

مسافروں نے آر ٹی سیکرٹری اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے استدعا ہے کہ اوورلوڈنگ روکنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے والے ٹریفک اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور اوورلوڈنگ کی وجہ سے خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ ہو تو ان کو بھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.