پنڈدادنخاناہم خبریں

کالعدم تنظیم ٹی ایل پی سے عسکریت پسند تنظیم کے طور پرنمٹا جائے گا، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں عسکری قیادت بھی شامل تھی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو ایک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر لیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید بتایا کہ آج ہونے والے کابینہ اجلاس میں بھی حتمی فیصلہ لیا گیا کہ کسی بھی صورت میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک لیبک پاکستان (ٹی ایل پی) کو بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے اورکوئی ریاست پاکستان کو کمزور نہ سمجھے۔ پاکستان نے القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیم کو شکست دی ہے، پہلے بھی ریاست کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی انہیں بعد میں احساس ہوا۔

فواد چوہدری نے ٹی ایل پی کا حوالہ دے کر کہا کہ اس تنظیم کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان کے پاس دہشت گرد تنظیموں کی طرح ہتھیار نہیں ہیں اس لیے کسی مائی کے لال میں جرات نہیں کہ وہ ریاست کو بلیک میل کرے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلے 6 مرتبہ تماشہ لگ چکا ہے اور ہم نے بڑے صبر کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ لوگوں کو نقصان پہنچے، ٹی ایل پی کی قیادت چاہتی ہے کہ لوگوں کا خون سڑکوں پر نظر آئے۔ ٹی ایل پی کے ساتھ جھڑپ میں 3پولیس اہلکار شہید اور 49 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، ٹی ایل پی کے ساتھ 27 کلاشنکوف بردار مل چکے ہیں اس لیے کوئی غیر قانونی احتجاج برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کو ایک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر لیا جائے گا، ہم انہیں سیاسی جماعت نہیں سمجھیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے خبردار کیا کہ یو ٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والے اپنے رویے پر نظر ثانی کریں، ان میں کچھ لوگوں کا تعلق میڈیا سے ہے، ریاست جعلی خبریں پھیلانے والوں کو بالکل برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں پی ٹی اے کو واضح ہدایت کردی گئی ہے۔

کابینہ میں زیر بحث آنے والے امور پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں لاہور کے ضمنی الیکشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کو مراسلہ لکھا جائےگا۔

انہوں نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول میں حکومت سندھ کو ناکام قرار دیا۔ پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 380 روپے مہنگا ہے، سندھ نے تاحال گندم ریلیز نہیں کی۔ پنجاب میں اشیا ضرویہ کی قیمتیں سب سے کم ہیں جبکہ سندھ میں اشیا کی قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔ گندم کی امدادی قیمت سے متعلق فیصلے کو سوموار تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سی ایس ایس امتحان کے حتمی نتائج تک 18 ماہ لگ جاتے ہیں اس لیے ایک اسکریننگ ٹیسٹ لیا جائے گا تاکہ صرف شوقیہ طور پر سی ایس ایس کے امتحان دینے والے پہلے مرحلے میں فارغ ہوجائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button