ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ، املاک کو نقصان پہنچانے اور عملہ کیساتھ لڑائی جھگڑا کرنے والوں کو اب سزا ہو گی

0

جہلم: ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ کرنے ، املاک کو نقصان پہنچانے اور عملہ کیساتھ لڑائی جھگڑے کے معاملات پر محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے قانون تیار کر لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی کمیٹی کے بعض ارکان نئے ایکٹ کو پرائیویٹ ہسپتالوں پر لاگوکرنے کے مخالف ہیں،لہٰذا کمیٹی مجوزہ بل سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکی۔ پروبیشن آف وائیلنس ایٹ پبلک ہاسپٹلز اینڈ ڈیمیج ٹو ریلیٹڈ پراپرٹی ایکٹ 2019 ء کے مطابق ہسپتالوں میں عملہ پر تشدد اور لڑائی جھگڑا کرنیوالوں کو عمر قید کی سزا دینے اور جرمانہ عائد کرنے کی تجویزہے۔

سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں توڑ پھوڑ اورطبی عملہ سے جھگڑا ناقابل ضمانت جرم ہو گا۔قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے کو 3 سال قید اور5 لاکھ جرمانہ ہو گا جبکہ املاک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں متعلقہ شخص ہی ازالہ کریگا۔ مریضوں کے علاج معالجہ میں غفلت کی شکایات کے ازالہ کیلئے شکایت بورڈ تشکیل دیا جائیگا۔ مجوزہ ایکٹ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد قانون سازی کیلئے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائیگا

ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ ہسپتالوں کو ہر قسم کے تشدد اور بدنظمی سے پاک کرنا ہوگا۔مسودہ قانون پر مشاورت ایک ہفتے میں مکمل کر لی جائیگی۔ مجوزہ قانون کے تحت ڈاکٹروں یا طبی عملہ کی کردار کشی کی روک تھام یقینی بنائی جائیگی۔ تاہم ڈاکٹروں کیساتھ مریضوں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

کمیٹی کے بعض ارکان کی طرف سے تجویز دی گئی کہ کردار کشی اور انسداد تشدد بل کو پہلے سے موجود ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کا حصہ بنا دیا جائے ، یہ بھی تجویز دی گئی کہ نجی ہسپتالوں کو مجوزہ قانون کے دائرہ کار میں شامل نہ کیا جائے۔ تاہم کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے کہا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی سرکاری اور نجی ہسپتالوں کیلئے الگ الگ قانون نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.