جہلم

جہلم شہر و گردونواح میں آٹا 60 روپے فی کلو سے زائد نرخوں میں فروخت ہونے لگا

جہلم: شہر و گردونواح میں آٹا 60 روپے فی کلو سے زائد نرخوں میں فروخت ہونے لگا، ضلعی انتظامیہ خود ساختہ مہنگائی روکنے میں بری طرح ناکام ، آٹے سمیت مختلف اشیاء انتہائی مہنگی ہونے سے شہری پریشانی میں مبتلا، غریب ، سفید پوش طبقہ کے افراد دو و قت کی روٹی سے محروم ، مہنگائی کنٹرول کرنے میں انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ، پی ٹی آئی کی حکومت شہریوں کو ریلیف دینے کی بجائے طفل تسلیاں دیکر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہے ، حکومت نے ہوش نہ لئے تو کسی وقت بھی شہریوں میں پرورش پانے والا لاوا نیست و نابود کر دے گا۔
تفصیلات کے مطابق بجلی ، گیس ، پٹرول کے بعد اب آٹا، گھی ، اور دالوں سمیت دیگر اشیاء اس قدر مہنگی ہوگئی ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز سپورٹرز بھی پی ٹی آئی پر شدید غم و غصے کا اظہار کر تے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے ، شہریوں کو ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی کی دلدل میں پھنسا دیا ہے ، ناقص و غیر معیاری آٹا60 روپے فی کلوفروخت ہونے محنت مزدوری کرنے والے افراد حکومت کے خاتمے کی بددعائیں مانگ رہے ہیں ،مہنگائی کیوجہ سے عوام نے سرجوڑنے شروع کر دیئے ہیں ، جبکہ پی ٹی آئی کے ووٹرز سپورٹرز بھی حقائق کو تسلیم کرنے پرمجبور ہیں۔
اس حوالے سے شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بجلی ، گیس کے بھاری بھرکم بل موصول ہوتے تھے موجودہ حکومت نے بلوں میں بے تحاشہ اضافے کے ساتھ ساتھ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے ، جبکہ دکانداروں نے حکومتی نرخ ناموں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے من مرضی کے نرخ مقرر کرکے اشیاء خوردونوش فروخت کرنی شروع کر رکھی ہیں۔
یہاں یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ بااثر دکانداروں نے اول ، دوم ، سوم، کی اشیاء متعارف کروا رکھی ہیں ، انتہائی ناقص وغیر معیاری اشیاء حکومتی نرخوں پر فروخت کی جاتی ہیں جسے جانور بھی قبول نہیں کرتے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ 60 روپے فی کلو فروخت ہونے والے آٹے کا معیار چیک کیا جائے اور ناقص و غیر معیاری آٹا فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ شہریوں کو حکومت کی طرف سے مقررہ کردہ نرخوں پر معیاری اشیاء خوردونوش فراہم ہو سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button