ٹی ایچ کیو ہسپتال پنڈدادنخان پوسٹ آفس بن گیا، مریضوں کو مہر لگا کر دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کیا جانے لگا

0

تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال پنڈدادنخان پوسٹ آفس بن گیا ،روڈ ایکسیڈنٹ سمیت ایمرجنسی مریضوں کو مہر لگا کر سینکڑوں کلو میٹر دور کے شہروں میں ریفر کر نا معمول بنا ہواہے ،جبکہ او پی ڈی میں روزآنہ کی بنیاد پر سینکڑوں مریضوں کے لیے ایک جنرل ڈاکٹر دستیاب ہوتا ہے،مختلف نوعیت کے امراض کے لئے عام درد بخار کی ادویات ہی سے کام چلایا جاتا ہے۔ ڈینٹل سرجن کی بھاری تنخواہ جبکہ مشینری دو سال سے ناکارہ بتائی جارہی ہے ،دو منٹ کے چیک اپ کے لیے مریضوں کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ ادوایات کی قلت ایک الگ سنگین مسئلہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹی ایچ کیو ہسپتال تحصیل کی سب سے بڑی علاج گاہ ہے جس سے پوری تحصیل مستفید ہوتی ہے،اربوں روپے مالیت کی وسیع و عریض پرشکوہ عمارت جس کی تزین وآرائش کے لیے خرچ ہونے والے سرکاری خزانے کے کروڑوں روپے اور بھاری ماہانہ اخراجات جو حکومت برداشت کر رہی ہے اس وقت تک بے کار ہیں جب تک ہسپتال کی بنیادی ضرروت ڈاکٹرز ہی موجود نا ہوں۔

اس وقت ہسپتال میں سینئرز ڈاکٹرز کی شدید قلت ہے چار ساڑے چار سو مریضوں کے لیے ایک جنرل ڈاکٹر موجود ہوتا ہے ڈینٹل سرجن کی سیٹ پر عرصہ دراز سے تعینات بھاری تنخواہ وصول کرنے والا ڈاکٹر تو ہے تاہم ان کے پاس علاج کے لیے جانے والوں کو مشینری کے خراب ہونے کا کہ کر ٹال دیا جاتا ہے صبح او پی ڈی مریضوں کو دو منٹ کے چیک اپ کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

انتظامی امور کی نالائقی کی وجہ سے ڈاکٹرز کے کمروں کے باہر بے ہنگم رش بنا رہتا ہے، ڈاکٹرز کی کمی کے سبب ہی حادثات کی صورت میں معمولی پٹی کے بعد مریضوں کو دوسرے شہروں میں بھیج دیا جا نا ایک معمول بنا ہوا ہے،حکومت پنجاب کے سستے سرکاری علاج کی مد میں خرچ ہونے والے اربوں روپے اس وقت تک کارآمد نہیں ہوسکتے جب تک ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مناسب میسر نہ ہو۔

عوامی حلقوں نے وزیر صحت، سیکریٹری ہیلتھ،سمیت ڈی سی جہلم سے پر زور اپیل کی ہے کہ ہسپتال میں ڈٖاکٹرز کی کمی کو فوری پورا کیا جائے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.