نئے پاکستان میں بھی صوبہ پنجاب کے پبلک سیکٹر کالجوں میں اساتذہ کی کمی پوری نہ ہو سکی

0

پڑی درویزہ: نئے پاکستان میں بھی صوبہ پنجاب کے پبلک سیکٹر کالجوں میں اساتذہ کی کمی پوری نہ ہو سکی ۔ افسر شاہی انتہائی شاطرانہ چال سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب۔

تفصیلات کے مطابق اپنے معمول سے تین ماہ دیر سے آنے والی عارضی اساتذہ (سی ٹی آئی ) کی بھرتی میں گزشتہ سال کی طرح کالجوں میں مطلوبہ مضامین سے نصف کے برابر اساتذہ بھرتی نہیں کئے جارہے ہیں ۔ گزشتہ سال کی طرح سائنس اور چند لازمی مضامین کے سوا آرٹس کے تمام مضامین کے اساتذہ عارضی طور پر بھی بھرتی نہیں ہو رہے ہیں اور معاشیات ، شماریات ، جغرافیہ ، ہیلتھ اینڈ فیزیکل ایجوکیشن ، ایجوکیشن ، فارسی ، پنجابی ، فائن آرٹس ، وغیرہ کے اساتذہ کی بھرتی سی ٹی آئی میں شامل نہیں ہے ۔

ایسے مضامین کے طلباء و طالبات کے والدین نے سخت پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے پر یہ امید تھی کہ اب کم از کم سرکاری کالجوںمیں عارضی طور پورے مطلوبہ اساتذہ میسر آجائیں گے لیکن پرانی افسر شاہی نے نئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی آنکھوں میں بچت کا نمک جھونکتے ہوئے ایک بار پھر جون 2018ء کی منظور شدہ پالیسی کے مطابق ہی مضامین کے سی ٹی آئی بھرتی کرنے کی منظوری دلوائی ہے ۔

آرٹس کے مضامین کے طلباء و طالبات کے والدین کی اکثریت نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں سرفراز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور سی ٹی آئی کی دی گئی پالیسی پر جتنا جلد ممکن ہو نظر ثانی کرتے ہوئے صوبہ بھر کے پبلک سیکٹر کالجوں میں ضرورت کے مطابق تمام مضامین کے عارضی اساتذہ کی بھرتی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کریں ورنہ کالجوں میں کم آمدنی والے محنت کش عوام کے بہت سے آرٹس کے مضامین میں زیر تعلیم بچے اور بچیاں اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم رہ جائیں گے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.