دینہ

دینہ میں حاضر سروس ڈاکٹرز کے ساتھ حاضر سروس اساتذہ نے بھی جگہ جگہ ٹیویشن سنٹرز، اکیڈمیاں بنا لیں

دینہ: ہم کسی سے کم نہیں، تحصیل دینہ میں حاضر سروس ڈاکٹرز کے ساتھ حاضر سروس اساتذہ نے بھی جگہ جگہ ٹیویشن سنڑز، اکیڈمیاں بنا لیں، سکولوں سے زیادہ پرائیویٹ اداروں میں دلچسپی، لاکھوں میں کھیلنے لگے ،کورونا وائرس کی ایسی کی تیسی،سرکاری سکولوں اور پڑھنے والے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے لگامحکمہ تعلیم کے افسران لمبی تان کر سو گئے۔

تفصیلات کے مطابق جس طرح سرکاری ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتال سے زیادہ اپنی نجی پریکٹس اور نجی ہسپتالوں کی طرف زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، ایسے میں سرکاری سکولوں،کالجز کے اساتذہ کرام بھی پیچھے نہیں، ضلع بھر کی طرح تحصیل دینہ میں بھی جگہ جگہ سرکاری ٹیچرز نے ٹیویشن سنٹرز اور اکیڈمیاں کھول رکھی ہیں، شفٹوں میں طلباء و طالبات کو تعلیم کے نام پر لوٹا جارہا ہے،ایک ایک سبجیکٹ پڑھانے کے ہزاروں روپے لئے جا رہے ہیں۔

ان سرکاری اساتذہ کی توجہ اپنے سرکاری تعلیمی اداروں کی بجائے اپنی پرائیویٹ اکیڈمیوں کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے سرکاری و غیرسرکاری سکولوں کی بندش سے ان ٹیویشن سنٹرز اور اکیڈمیوں کی چاندی ہو گئی ہے، سرکاری و پرائیویٹ اساتذہ نے کورونا وائرس کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔

کوئی احتیاطی تدابیر نہیں اپنائی جا رہی ہیں اور بغیر حکومتی اجازت کے طلباء و طالبات کو بھیڑ بکریوں کی طرح کمروں بٹھا کر تعلیم کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔ کالجوں کے پروفیسر، لیکچرار اور سکولوں کے اساتذہ لاکھوں میں کھیلنے لگے ہیں،کوئی بھی ان کو پوچھنے والا نہیں۔

عوامی حلقوں نے ڈی سی جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیز کو چیک کریں،اساتذہ کے اثاثے چیک کریں۔ کورونا وائرس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھولنے والے سرکاری اساتذہ کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کر کے بچوں کے مستقبل کو بچایا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button