پڑی درویزہسوہاوہاہم خبریں

مقامی حکومت کے پانچ نظام گزرے ، اب انوکھا مقامی حکومت کا نظام لایا جارہا ہے۔ فرخ سلطان زلفی

پڑی درویزہ: کمیونٹی سنٹر میں سماجی ادارہ پوٹھو ہار آرگنائزیشن فار ڈیویلپمنٹ ایڈووکیسی (پودا) پاکستان کے زیر اہتمام تین اضلاع چکوال ، جہلم اور راولپنڈی کے سماجی کارکنان کی ایک دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی ۔عنوان تھا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء کا تعارف اور سالانہ ترقیاتی منصوبہ کی تیاری ۔
’’پودا‘‘کی ریجنل مینجر ناہیدہ عباسی ، سہیل یوسف ، بختاور بشیر ، نسینا خالداور لوکل گورنمٹ ضلع چکوال کے اہلکار، معروف سماجی کارکن فرخ سلطان زلفی کا مرکزی کردار رہا۔
اس دوران تربیت فرخ سلطان زلفی نے بتایاکہ گزشتہ 84سالوں کے دوان پانچ قسم کے مقامی حکومتوں کے نظام آئے جبکہ اب صوبہ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء ایک انوکھا ایکٹ آرہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل 1935ء میں پہلی مرتبہ مقامی حکومت کا نظام نافذ کیا گیا جس کے مطابق صرف زیادہ جائداد کے مالکان ہی کو ووٹ کا حق دیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں دوسرا مقامی حکومت (دیہات سدھار تحریک) کا نظام نافذ کیا گیا اسی طرح1960ء میں بنیادی جمہورتیوں کے حوالے سے بی ڈی سسٹم کا نظام لایا گیا جس کے نتیجے میں منتخب ممبران کو محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں منعقد ہونے والے انتخابات میں استعمال کیا گیا پھر 1979ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے چوتھا بلدیاتی نظام متعارف کرایا۔
فرخ سلطان نے کہا کہ 2001ء میں جنرل پرویز مشرف نے مقامی حکومت کا نظام رائج کیا جس کے تحت ضلع ، تحصیل ، یونین کونسل ناظمین ، جنرل کونسلر ، خاتون کونسلر ، لیبر کونسلر اور کسان کونسلر منتخب ہوئے ، یاد رہے کہ اس نظام کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی مرتبہ تعلیم یافتہ افراد منتخب ہوسکے ۔
فرخ سلطان زلفی کا کہنا تھا کہ اب صوبہ پنجاب کے لئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء بہت جلد سامنے آرہا جو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا ویژن ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی خواہش ہے 20دسمبر 2019ء تک اس نظام کے تحت مجوزہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے اسی طرح توقع ہے کہ مارچ 2020ء تک یہ سلسلہ مکمل کر دیا جائے ۔
انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا کہ پہلے تمام ایسے نظام آمرانہ حکومتوں کے زیر نگرانی نافذکئے گئے لیکن یہ واحد نظام ہے جو کسی جمہوری حکومت کے دور میں لایا جارہا ہے ۔ اس نظام کے تحت صرف 200سے 5000 کی آبادی تک ایک چیئر مین ، وائس چیئرمین یا جنرل کونسلراور ایک خاتون کونسلر منتخب ہو کر ایک ولیج کونسل قائم کرسکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ علاوہ ازیں تحصیل ناظم کا انتخاب بھی برائے راست عوام سے کیا جائے گا ۔ ہر ولیج کونسل کو سالانہ 30لاکھ روپے فلاحی ترقیاتی بجٹ دیے جانے کی توقع ہے ۔ اس دو روزہ ورکشاپ میں ضلع چکوال کی یونین کونسل ناڑہ موگلہ تحصیل چکوال ، دھولر تحصیل تلہ گنگ جبکہ ضلع جہلم کی یونین کونسل پھلڑے سیداں سے سماجی کارکنان شامل تھے ۔
سماجی کارکنان کی تربیتی ورکشاپ کے دوسرے روز شرکاء کو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر چکوال غلام محی الدین شاہ گیلانی نے بتایا کہ یکم دسمبر 2019ء کو حکومت کا پروگرام ہے کہ انتخابی فہرستیں ڈسپلے سنٹر زمیں رکھ دی جائیں گی بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے تک رائے دہندگان ان فہرستوں میں اپنے ووٹ کی پڑتال کرسکیں گے نیز درستی بھی ہوسکے گی ۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معلومات انٹرنیٹ پر بھی میسر ہوں گی۔دوران ورکشاپ تربیت حاصل کرنے والے کارکنان کو سالانہ ترقیاتی منصوبہ کی تربیت بھی دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button