جہلم

جہلم میں اگنے والے جنگلی شہتوت کے باعث شہری سانس کی بیماریوں میں مبتلا

جہلم: شہر و گردونواح کے مختلف علاقوں میں اگنے والے جنگلی شہتوت کے باعث شہری سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونا شروع ہو گئے۔ چھنکیں، کھانسی ،آنکھیں سرخ، ناک کی بندش اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات نے الرجی کے مریضوں کی زندگی عذاب بنا دی ۔

ڈی ، ایچ، کیو، ہسپتال کے شعبہ ٹی بی و تپ دق سے علاج معالجہ کیلئے آنے والے مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ، شہریوں نے الرجی کا باعث بننے والے جنگلی شہتوت کے ہزاروں درختوں کو کٹوانے کا مطالبہ کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر و گردونواح کے علاقوں میں نر شہتوت کے ہزاروں درخت موجود ہیں جو جہلم کے شہری علاقوں میں مارچ اور اپریل کے دوران الرجی کا باعث بنتے ہیں ۔

ماہر امراض ٹی بی و تپ دق ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جہلم کی فضاء میں پولن کی مقدار بہت زیادہ ہے جبکہ صرف جنگلی شہتوت کے درخت ہی یہ تمام پولن پیدا کر رہے ہیں ۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے شعبہ ٹی بی و تپ دق میں علاج معالجے کے لئے آنے والے مریضوں نے بتایا کہ مارچ اور اپریل کے مہینے ہمارے لئے عذاب سے کم نہیں ہوتے پولن الرجی کی وجہ سے کوئی کام نہیں کر سکتے۔ سانس کی بیماری میں مبتلا۔ندیم عباس نے بتایا کہ میں طالبعلم ہوں اور پولن الرجی کی وجہ سے اس موسم میں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عرفان کا کہنا تھا کہ مارچ اپریل کے مہینے میرے لئے ازیت ناک بن جاتے ہیں ۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے شعبہ ٹی بی و تپ دق کے انچارج فزیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن ملک نے کہا کہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو اس موسم میں پودوں کے قریب جانے سے اجتناب کرنا ہو گا، سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ماسک کا استعمال لازمی کرنا چاہئے تاکہ سانس کی بیماری میں کمی واقع ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button