سوہاوہ کے نواحی علاقہ سے لاکھوں برس قدیم جانوروں کی باقیات دریافت

0

سوہاوہ: نواحی علاقہ پدھری تتروٹ سے 35 لاکھ سال پرانے جانوروں کی باقیات دریافت،یونیورسٹی فیصل آباد کے طالب علموں ریسرچ ٹیم نے دوران ریسرچ نے مختلف نسلوں کے جانوروں کی بقایات دریافت کیں، دریافت میں بارہ سنگھا،ہرن،شیر، مگر مچھ اور مختلف قسم کے جگالی کرنے والے جانوروں کی باقیات شامل ہیں۔دریافت ہونے والی باقیات جبڑے اوپر نیچے والے کھالیں شامل ہیں جن کو ریسرچ ٹیم قبضہ میں لیکر تحقیق کرے گی کہ کتنا عرصہ قبل ان جانوروں کی نسل ختم ہو چکی ہے۔

گزشتہ دس روز سے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے پی ایچ ڈی سکالر شعبہ ذوالوجی عمر دراز اور انکی ٹیم نے سوہاوہ کے نواحی علاقہ پدھری تتروٹ کے جنگلی پہاڑی علاقوں میں انتھک محنت کے بعد کی ہے جس میں مقامی فیلڈ گائیڈ بھی شامل تھے۔ اس ریسرچ ٹیم کے سربراہ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ ذوالوجی ڈاکٹر محمد خضر سمیع اللہ تھے دریافت میں ان جانوروں کے اوپر نیچے کے جبڑے اور دانت،سینگ اور کھال کے حصے شامل ہیں۔ریسرچ ٹیم کا بنیادی مقصد ان معدوم ہونے والے جانوروں کی باقیات دریافت کر کے وجہ کا پتہ لگایا جا سکے کہ انکی نسلیں کیسے ختم ہوئی ہیں تاکہ پاکستان میں موجودہ جانوروں کی نسلوں کو تحقیق کر کے بچایا جا سکے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: تتروٹ سے محققین نے تقریباً 35لاکھ سال پرانا کارنی وار یعنی شیر وغیرہ کے دانت دریافت کر لئے

اس علاقہ سے مگرمچھ کی جو باقیات کا دریافت ہوئی ہے وہ بڑے بڑے دریاوں اور جھیلو میں پائی جاتی تھی، اب اس علاقہ میں کوئی جھیل ور دریاء نہیں پایا جاتا جسکی وجہ سے اب یہ جانور یہاں دکھائی نہیں دیتے جگالی کرنے والے جانوروں کی باقیات کا دریافت ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ لاکھوں سال پہلے وسیع و عریض گھنے جنگلوں پر مشتمل تھا جہاں شیر،ہرن،ہاتھی اور دیگر جانوروں کا راج تھا۔

اس سے قبل بھی انہی علاقوں سے ہاتھی اور دیگر جانوروں کی لاکھوں سال پرانی باقیات دریافت ہوچکی ہیں یہاں مختلف یونیورسٹیوں کے سکالرز پہلے بھی آکر ریسرچ کر چکے ہیں جس میں مختلف جانوروں کی باقیات دریافت ہوچکی ہیں ان سکالرز کو جنگلوں پہاڑوں پر جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کوئی پکا راستہ بھی موجود نہ ہے جبکہ حکومت کی طرف سے بھی انکی کوئی خاطر خواہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اگر حکومتی مدد حاصل ہو تو یہ سکالر ان علاقوں سے مزید دریافت کر کے پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے اس نواحی علاقے میں پہلے بھی بہت سے ناپید جانوروں کی باقیات دریافت ہوچکی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.