جہلم

اس ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہ بن سکا جس میں پاکستان کے سیاستدان اپنا علاج کروا سکیں۔ سید خلیل حسین کاظمی

جہلم: گزشتہ 70 سالوں سے اس ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہ بن سکا جس میں پاکستان کے سیاستدان اپنا علاج کروا سکیں جو بھی سیاستدان بیمار ہوتا ہے وہ ملک سے باہر علاج کروانے کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ بات مرکزی جماعت اہلسنت کے ضلعی امیر سید خلیل حسین کاظمی نے مدرسہ انجمن تعلیم الاسلام شمالی محلہ جہلم میں اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے 30سال وطن عزیز پر حکمرانی کی اس کے باوجود اپنے لئے ایک ایسا ہسپتال نہ بنا سکے جو انکے خاندان سمیت دیگر سیاست دانوں کا علاج معالجہ کرواسکیں۔
انہوں نے کہا کہ جب سیاستدان ملک سے باہر علاج کے لئے جاتے ہیں تو پوری دنیا پاکستانی سیاستدانوں کا مذاق اڑاتی ہے کہ یہ پاکستان کے کیسے حکمران ہیں جن کے ملک میں علاج معالجہ کی سہولیات موجود نہیں جبکہ جب یہ حکمران ا قتدار میں ہوتے ہیں تو تندرست و توانا ہوتے ہیں جب اقتدار ختم ہوجائے اور کرپشن میں پکڑے جائیں تو بیماریاں سیاست دانوں کو جکڑ لیتی ہیں پھر انکا علاج بھی پاکستان میں ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم ایماندار ہوتے تو اپوزیشن کرپشن سے بچنے کے لئے اے بی اور سی پلان مرتب کرکے قوم کو گمراہ نہ کرتی۔ بے ایمان، کرپٹ، بدعنوان، لوٹ کھسوٹ کرنے والے حکمران ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، قوم باشعور ہو چکی ہے، اب اپوزیشن کا اے ، بی، سی پلان، بری طرح فلاپ ہو چکا ہے۔
سید خلیل حسین کاظمی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا کہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت سے جدید ہسپتال تعمیر کروائے جائیں جہاں بھاگنے والے سیاستدانوں کا طبی اور ذہنی علاج ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button