جہلم

جہلم شہر میں گندگی کے ڈھیروں نے تاریخی شہر کو کچرا کنڈی بنا دیا۔ سروے

جہلم: شہر میںگندگی کے ڈھیروں نے تاریخی شہر کو کچرا کنڈی بنادیا، ارباب اختیار کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود شہر کی صفائی کی صورتحال اس قدر ناقص ہے کہ ہر گلی ، ہر محلے میں ہر طرف کچرا ہی کچرا نظر آتا ہے سینٹری برانچ مکمل طور پر مفلوج اور صرف وی آئی پیز کے بنگلوں کی صفائی کیلئے مختص ہو کر رہ گئی ہے۔

یہ بات جہلم شہر کے مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد نے شہیدوں اور غازیوں کے شہر جہلم میں صفائی کی صورتحال کے موضوع پر منعقد ہ سروے کے دوران کہی۔

شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال اور کچرے کے ڈھیروں سے عوام کو درپیش مسائل جاننے کیلئے سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے معروف قانون دان اور سماجی کارکن چوہدری فرحت کمال ضیاء نے کہا کہ جہلم شہر اگرچہ اتنا بڑا نہیں اور یہاں آبادی کے تناسب بھی دیہاتی علاقوں میں زیادہ ہے لیکن عرصہ چالیس سال سے یہاں ن لیگی ممبران قومی و صوبائی اسمبلی منتخب تو ہوتے رہے لیکن شہر کے کوئی پلاننگ ان کا ویژن ہی نہیں تھا بلکہ ان پڑھ اور جاہل نمائندوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے مسائل حل کئے شہر میں سیوریج کانظام ستر سال پرانا ہے جو نوے فیصد بیکار ہو چکا ہے اس سے رسنے والا پانی نہ صرف گلی محلوں میں کیچڑ کے دریا بہا رہاہے بلکہ زیر زمین پانی میں شامل کر پینے والے پانی کو بھی زیر آلود کر رہا ہے چند یونین کونسلز پر مشتمل سٹی ایریا کی ہر گلی کچرے سے آلودہ ہو چکی ہے شہر میں نہ فلتھ ڈپو ہیں نہ سینٹری ورکر، شہریوں نے بھی انتہا درجہ کی بے شرمی اختیار کرتے ہوئے گھروں کا گند سڑکوں ، گلیوں اور پلاٹوں میں پھینکنے کے وتیرہ بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے موذی بیماریوں کا پھیلاو عام ہے ۔

معروف سماجی تنظیم کیئر ٹیکرز کے سربراہ میر اسفند یار اسد نے شہر میں ناقص صفائی اور بیماریوں کے پھیلاو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی میٹنگز دیکھی جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ضلع کے تمام مسائل آج ہی حل ہو جائیں گے لیکن سرکاری دفاتر خصوصا سینٹری کے شعبہ سے متعلقہ اداروں کی ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ ڈی سی کے احکامات کو چپڑاسی کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ جس گلی میں جائیں گندگی کے ڈھیر نظرا ٓتے ہیں جو نئی نسل کا بیٹرہ غرق کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے سڑکوں پر دھول مٹی اس قدر ہے کہ لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں میر اسفند یار نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور بلدیہ کی سینٹری برانچ کے مکمل فیل ہوجانے پر اب ہماری تنظیم کئیر ٹیکرز نے صاف جہلم کی مہم شروع کر دی ہے جس میں ہمارے رضا کار ہر ہفتہ شہر کے مختلف علاقوں کی صفائی کرتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ شہری ان رضا کاروں کے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے مزید گندگی پھیلاتے ہیں ۔

ممتاز سماجی کارکن امجد علی کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل گلیوں میں سینٹری ورکر نام کی کوئی چیز نظر آتی تھی لیکن جب سے چیئرمینی نظام آیا ہے اس نے تمام حالات کا ستیا ناس کر دیاہے شہر کے تمام نالے گندگی سے اٹ چکے ہیں اور عرصہ درازسے بند پڑے ہیں اس حوالے سے بلدیہ کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو سینٹری برانچ کے پاس درجن بھر ٹریکٹر ٹرالی موجود ہیں جو صرف گندگی اٹھانے کیلئے مختص ہیں لیکن کرپشن اس قدر بڑھ چکی ہے کہ صرف دو ٹریکٹر ٹرالی صرف ڈی سی ، اے سی اور سیاسی نمائندوں کی گزرگاہوں پر چلتے دکھائی دیتے ہیں ہمارے علاقے محمدی چوک ، جادہ میں گلیوں میں کئی کئی فٹ سیوریج کا پانی کھڑا ہے کچرے کے ڈھیر ہمارے بچوں کو بیمار کررہے ہیں لیکن کسی کو پروا نہیں ، سیاسی نمائندے بے حس و بے شرم ہو چکے ہیں ہمارے ایم پی اے مہر فیاض نے سینکڑو ں بارے جھوٹے دعوے کرکے لوگوں کی آنکھوں میں مٹی ڈالی ہے اب وہ ایم این اے بننے کے خواب دیکھ رہا ہے ایسے جھوٹے شخص کو کون ووٹ دے گا۔

معروف سماجی شخصیت اور انکم ٹیکس ایکسپرٹ رئیس عامر ایڈوکیٹ نے سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چند ماہ قبل حکومت پنجاب کی جانب سے صاف دیہات پروگرام کے نام پر ہر یونین کونسل میں 25، 25لاکھ روپے تقسیم کئے گئے لیکن ان پیسوں سے صفائی صرف چیئرمینوں کے گھروں تک محدود رہی ، کئی ایک چیئرمینوں نے صفائی کی بجائے انتخابی خرچے پورے کرنے کیلئے پیسے ہڑپ کر لئے جبکہ کئی ایک نئی گاڑی خرید کر اپنی خواہشات پوری کرتے نظر آتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم ضلعی انتظامیہ کو چیلنج کرتے ہیں کہ کسی ایک بھی یونین کونسل میں مکمل صفائی دکھا دیں تو ہم ہر جرمانہ دینے کو تیار ہیں۔

رئیس عامر ایڈووکیٹ نے کہا کہ دیہاتوں میں تو پچیس پچیس لاکھ روپے ہڑپ ہو گئے ہیں جبکہ شہر میں سینٹری برانچ کم افراد ی قوت اور وسائل کا رونا روتی نظر آتی ہے الغرض سروے کے دوران ضلع جہلم کی اہم شخصیات نے صفائی کی ناقص صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سے فی یونین کونسل پچیس لاکھ کے فنڈز اور سینٹری برانچ کے پاس سامان اور بجٹ کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button