موسم کے رنگ بدلتے ہی گرم کپڑوں اور جوتوں کی مانگ میں اضافہ

0

جہلم: موسم کے رنگ بدلتے ہی گرم کپڑوں اور جوتوں کی مانگ میں اضافہ ، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متوسط اور غریب طبقہ کے افراد کے لئے تن کو ڈھانپنا چیلنج بن گیا جبکہ طلباء کے یونیفارم کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق سردی کا موسم شروع ہوتے ہی زیب تن کئے جانے والے ملبوسات اور جوتوں کی قیمتوں میں دکانداروں نے خود ساختہ اضافہ کرکے مہنگائی کے ستائے افراد کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

شہر کے مختلف مقامات پر لنڈے کا کارروبار کرنے والے افراد نے اپنے سٹالز بھی قائم کرلئے ہیں جہاں سے غریب طبقہ و متوسط طبقہ کے افراد سردی سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے جرسیاں ،سوئٹر ،جوتے اور دیگر اشیاء خریدنے کے لئے رخ کرنا شروع کردیا ہے ۔

گزشتہ سالوں کی نسبت امسال بازار میں موجود لنڈے کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ منہ مانگے دام وصول کئے جانے کی وجہ سے صارفین اور دکانداروں میں توں تکرار میں بھی اضافہ ہوچکا ۔

جوتوں اور بچوں کی یونیفارم کی قیمتوں میں بے جا اضافے پر کم آمدنی والے والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نئی جرسیاں سوئیٹر، یونیفارم اور جوتے خریدنا کسی صورت بھی آسان دکھائی نہیں دے رہا۔ ہر دکاندار اپنی دکان کے کرایہ جات اور ملازمین کے اخراجات کے حساب سے مذکورہ اشیاء کی قیمتیں مقرر کر رکھی ہیں۔

سروے کے دوران کمر توڑ مہنگائی کے ستائے شہریوں نے حکمران طبقہ پر شدید تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ کسی نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر سادہ لوح عوام کا ووٹ حاصل کر کے کرسی اقتدار پر قبضہ کیا تو کسی نے قرض اتاروملک سنوارواور غربت مکاؤ کا نعرہ لگا کر عوام کو اپنے جال میں پھانس کر اقتدار کے مزے لوٹے اور اب تبدیلی کی دعوئے دار حکومت عوام کے مسائل سے بے خبر حکمرانی کے نشہ میں چور ہے۔مشکل حالات میں غریب طبقہ کے لئے تن کو ڈھانپنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

لنڈابازارغریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کا واحد ذریعہ تھا مگر کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں طوفانی اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت غریبوں کا معاشی قتل کرنے کے درپے ہے۔

دوسری جانب سٹالز مالکان کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک سے آنے والی لنڈا بازار کی اشیاء انہیں کراچی ،لاہور اور دیگر شہروں سے مہنگے داموں خرید کرنا پڑتی ہیں۔اگر حکومت انقلابی اصلاحات نافذ العمل کرتے ہوئے عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور محرومیوں کا خاتمہ کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو غربت میں خود بخود کمی واقع ہو جائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.